Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

فیکٹ چیک: امپلائمنٹ پورٹل سے 10 لاکھ نوکریاں دینے کا عام آدمی پارٹی کا دعویٰ گمراہ کن

عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنما اور دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے انگریزی اخبار ‘دی ہندو‘ کے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ دہلی حکومت کے جاب پورٹل ‘روزگار بازار’ سے اب تک 10.21 لاکھ افراد کو نوکریاں مل چکی ہیں۔

اخبار میں منیش سسودیا کے حوالے سے لکھا گیا ہے،”دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے اتوار کو کہا کہ جون 2010 میں شروع کیے گئے ریاستی حکومت کے جاب پورٹل روزگار بازار نے اب تک دارالحکومت میں 10.21 لاکھ نوکریاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وبا اور اس کے بعد روزگار کے نقصان کے بعد پورٹل ایک بڑی راحت کے بطور آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال امسال روزگار کے بجٹ میں اعلان کردہ دہلی میں مزید 20 لاکھ نوکریاں دینے کا اپنا وعدہ، وفا کریں گے”۔

اس خبر کو زی دہلی-این سی آر-ہریانہ نے بھی کور کیا ہے۔

علاوہ ازیں کئی دیگر اخبارات، ویب پورٹلز اور نیوز چینلز نے بھی اس خبر پر اپنے رپورٹس شائع کی ہیں۔

فیکٹ چیک:

عام آدمی پارٹی اور منیش سسودیا کے اس دعوے کی جانچ-پڑتال کے لیے ہم نے گوگل پر سمپل سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ پر ہی پبلش ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ میں عام آدمی پارٹی کے دعوے کو “مسلیڈنگ” یعنی گمراہ کن بتایا گیا ہے۔

دی ہندو نے اس رپورٹ کو سرخی،”10 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کا اے اے پی کا دعویٰ گمراہ کن” دی ہے۔ اس رپورٹ میں تفصیل سے لکھا گیا ہے کہ یکم مئی تک پورٹل کے ذریعے صرف 12,588 افراد کو نوکریاں ملی تھیں۔ 12,588 کا یہ اعداد و شمار بھی حکومت کا اندازہ ہے، کیونکہ یہ صرف ان کے ساتھ فون کال پر مبنی ہے۔ دہلی حکومت کے پاس ان لوگوں کے نام یا کوئی اور تفصیلات نہیں ہیں جنھیں در حقیقت ملازمت ملی ہے، متعدد ذرائع سے یہ معلومات مصدقہ ہیں۔

نتیجہ:
‘دی ہندو’ کی رپورٹ کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ عام آدمی پارٹی کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 10 لاکھ نہیں بلکہ صرف 12,588 افراد کو نوکریاں ملی ہیں۔

دعویٰ: دہلی حکومت کے ایمپلائمنٹ پورٹل سے 10 لاکھ لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں۔
دعویٰ کنندہ: عام آدمی پارٹی
فیکٹ چیک: گمراہ کن

(آپ DFRAC# کو ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر فالو کر سکتے ہیں۔)