Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

فیکٹ چیک: کوڑے کی مار کھاتے ہوئے کی تصویر بھگت سنگھ کے نام پر گمراہ کن دعویٰ وائرل

ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ یہ تصویر بلیک اینڈ وائٹ ہے۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ستون سے باندھا گیا ہے اور ایک انگریز سپاہی اسے کوڑے (تازیانے) مار رہا ہے۔ سوشل میڈیا یوزرس  دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ تصویر شہید بھگت سنگھ  (Bhagat Singh)کی ہے۔ اس تصویر پر ٹیکسٹ لکھا ہے، ’امر شہید بھگت سنگھ کی ایک نایاب تصویر – جیل میں انگریز انھیں کوڑے لگاتے ہوئے (دائیں)شہید بھگت سنگھ میوزیم میں نصب مجسمہ ۔ (تصویر بشکریہ: ایم کے پال ایڈوکیٹ، راجکوٹ)‘

رنجیت بگّا نامی یوزر نے اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ، ’بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کی کوڑے سے مار کھاتےہوئے…یہ نایاب تصویر کبھی اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اور ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ آزادی نہرو اور گاندھی نے دلوائی تھی۔ آزادی کے عظیم ہیرو آزاد، بھگت سنگھ، ادھم سنگھ، اشفاق اللہ خاں جیسے انقلابی تھے‘۔

وہیں ایک دیگر یوزر نے اسی کیپشن کے ساتھ وہی تصویر شیئر کی ہے۔

 

قابل ذکر ہے کہ یہ تصویر ہر سال وائرل ہوتی ہے۔ قبل ازیں ؤ2019، 2020 اور 2021 میں بھی اسی دعوے کے ساتھ یہ تصویر وائرل ہو چکی ہے۔

2019 میں وائرل پوسٹ:

2020 میں وائرل پوسٹ:

 

2021 میں وائرل پوسٹ:

فیکٹ چیک:

وائرل ہورہی اس تصویر کی جانچ-پڑتال کے لیے، ہم نے  سب سے پہلے گوگل پر سمپل  سرچ کیا۔ بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کی اس تصویر کے حوالے سے ہمیں گوگل پر کوئی معلومات نہیں مل سکی۔ اس کے بعد، تصویر کے بارے میں مزید سرچ  کرنے کے بعد، ہمیں یہ تصویر لندن میں تاریخ کے پروفیسر کِم اے ویگنر کی پوسٹ پر ملی۔

انہوں  نے یہ تصویر 22 مئی 2018 کو پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے اس تصویر کے بارے میں لکھا،’ Here are two of the photographs of public floggings at Kasur, in Punjab, that were smuggled out of India and published by Benjamin Horniman in 1920 #AmritsarMassacre ‘ جس کاممکنہ  اردو ترجمہ بایں طور ہے،’یہاں پنجاب کے قصور میں سرعام کوڑا مارنے کی دو تصویریں ہیں،جنھیں  اسمگلنگ کرکے ہندوستان سے باہر لایا گیا تھا اور 1920 میں بینجمن ہارنیمین کی جانب سے شائع کیا گیا تھا #AmritsarMassacre‘۔

یہ بھی پڑھیں:فیکٹ چیک: ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ بھگت سنگھ نے نہیں، حسرت ؔموہانی نے دیا تھا

پروفیسر ویگنر نے اپنی پوسٹ میں کہیں بھی بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ تصویر 1920 کی بتائی جا رہی ہے۔ جس وقت کی یہ تصویر بتائی جا رہی ہے، اس وقت بھگت سنگھ کی عمر 13 سال تھی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھگت سنگھ (Bhagat Singh) پہلی بار 1927 میں جیل گئے تھے۔

BBC

نتیجہ:

ہمارے فیکٹ چیک سے ثابت ہوتا ہے کہ شہید بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ گمراہ کن ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا شخص بھگت سنگھ نہیں ہے۔

دعویٰ : کوڑے  کی مارکھاتےبھگت سنگھ کی نایاب تصویر

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: گمراہ کن

(آپ DFRAC# کو ٹویٹر، فیسبک اور یوٹیوب پر فالو کر سکتے ہیں۔)