Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, ستمبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے سپریا سولے کی فوٹوشاپڈ تصویر وائرل

مہاراشٹر کے بارامتی سے رکن پارلیمنٹ اور نیشنلسٹ کانگریس...

فیکٹ چیک: شنکرچاریہ نے راہل گاندھی کو کہا اَینٹی ہندو، آشیرواد دینے سے بھی کیا انکار؟

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کنیاکماری سے کشمیر تک...

فیکٹ چیک: کیا پی ایف آئی کے کارکنان نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے؟ 

حال ہی میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)...

توہین رسالت مآب ﷺ کی آڑ میں بھارت مخالف ایجنڈے کی بین الاقوامی مہم

پیغمبر آخرالزماں ﷺ کا مقام، مذہب اسلام میں ’بعد از خدا بزرگ‘ ہے۔ پوری دنیا کے 1.8 بلین مسلمانوں کے لیے پغمبر آخرالزماں ﷺ کی تعظیم ایک جذباتی معاملہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں پیغمبر آخرالزماں ﷺ پر کیا جانے والا متنازعہ تبصرہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کو براہ راست متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر ’جیو پالیٹکس‘ پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ فرانس کی متنازعہ میگزین شارلی ہیبدو اور ڈنمارک کے اخبار جیلینڈس پوسٹین کی جانب سے شائع کیے گئے متنازعہ کارٹون کے بعد دونوں ملکوں کو دنیا بھر میں کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

پیغمبر اسلام ﷺ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان نوپور شرما کے متنازعہ بیان کے بعد ہندوستان میں بھی کافی تنازعہ ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے صدیوں سے عرب اور مسلم ممالک سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار ہندوستان کو ان ممالک کی سخت ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ یہ پورا معاملہ بظاہر جیسا لگتا ہے؛ ویسا ہے نہیں۔ اس بابت DFRAC اپنی اس رپورٹ میں بڑا انکشاف کرنے جا رہا ہے کہ کیسے پیغمبر آخرالزماں ﷺ کی آڑ میں ایک’ اسپونسرڈ ‘بھارت مخالف مہم چلائی گئی۔

الھیئة العالمیة لنصرة نبي الاسلام @SupportProphetM

الھیئة العالمیة لنصرة نبي الاسلام یعنی بین الاقوامی تنظیم برائے نصرتِ پیغمبر اسلامﷺ ‘ نبی آخرالزماںﷺ کی نصرت وحمایت میں چلائی جانے والی ایک عالمی مہم ہے، جو بین الاقوامی سطح پر عظمتِ رسالت مآب ﷺ اور اسلاموفوبک مسائل کو زوروشور سے اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس تنظیم کے زیادہ تر افراد کا مذہبی ربط ’مسلم بردرہوڈ‘ (اخوان المسلمین)سے ہے۔ یہ سید قطب، ابوالاعلیٰ مودودی کے سیاسی اسلام اور ابن تیمیہ یا ابن عبد الوہاب کے سلفی آئیڈیا لوجی ( مکتبۂ فکر) پر مبنی عالمی تنظیم ہے۔ ابن عبدالوہاب پر اسلامی سخت گیریت پر مبنی آئیڈیالوجی کو فروغ دینے اور پیغمبر اسلامﷺ اور ان کے ’اہل بیت‘ کی بے حرمتی کرنے کے الزامات ہیں۔ ایسے میں یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ جس مکتبۂ فکر کے بانی نے ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی بے حرمتی کی ہو اسی مکتبۂ فکر کے افراد ،آخر کیوں پیغمبر اسلام ﷺ کی حمایت میں کھڑے ہو رہے ہیں؟

Source: supportprophetm.com

@SupportProphetM کی  ویب سائٹ کے مطابق دنیا بھر  کے 50 سے زائد مبینہ علماء کو جوڑکر اس تنظیم کا قیام کیا گیا، جس کی نظامت (نظم و ضبط) ترکی کے دارالخلافہ استنبول سے ہوتی ہے۔ تنظیم میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن کے طور پر ہندوستان سے شیخ سلمان حسین الحسینی الندوی  بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ دہشت گردِ زمانہ  آئی ایس آئی ایس (داعش) کے سربراہ   ابوبکربغدادی کو بطور خلیفہ تسلیم کیا تھا اورخط لکھ کر اس کی حمایت کی تھی۔

نوپور شرما کے متنازعہ بیان کے بعد تنظیم کی جانب سے دنیا بھر میں بالخصوص خلیجی ممالک (عرب) میں ہندوستان کے خلاف بد تشہیری (شبیہ خراب کرنے کی) مہم چلائی گئی۔ حالانکہ یہ مہم شروع میں عظمتِ رسول ﷺ سے وابستہ نظر آتی ہے، لیکن بعد میں واضح ہو گیا کہ بد تشہیری  کی یہ مہم عظمتِ رسولﷺ کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر نشانہ بنانے کے لیے ہے۔ تنظیم کی جانب سے ہندوستان کے داخلی امور میں براہ راست عمل دخل کی کوشش کی گئی۔

@SupportProphetM

الھیئة العالمیة لنصرة نبي الاسلام @SupportProphetM یعنی انٹرنیشنل آرگنائیزیشن ٹو سپورٹ دی پروفیٹ آف اسلام کا آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ ہے۔ یہ اکاؤنٹ 13 اکتوبر 2001 کو بنایا گیا تھا۔ اکاؤنٹ کےفالوور فی الحال 73.7K ہیں۔  اس اکاؤنٹ کے ذریعے ہندوستان کی شبیہ کو مسلم اور عرب ممالک میں خراب کرنے کے لیے کئی ہیش ٹیگ چلائے گئے۔ ان ہیش ٹیگ کے ساتھ بھارت کو بدنام کرنے کے لیے فیک اور گمراہ کن خبروں کا بھی سہار لیا گیا۔

فیکٹ چیک:

  1. ناسک میں افغانی صوفی مولانا کے قتل کو دیا گیا فرقہ وارانہ رنگ

مہاراشٹر کے شہر ناسک میں افغانی شہری صوفی مولانا خواجہ سید زریب چشتی کو گولی مار  کیے گئے قتل کو @SupportProphetM کی جانب سےفرقہ وارانہ رنگ دیا گیا۔

Source:Twitter

@SupportProphetM نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہندوؤں نے مسجد کے امام کو بنایا نشانہ۔ 35 برس کے مولوی خواجہ سید چشتی کو چار ہندوؤں نے گولی مارکر قتل کر دیا۔

حالانکہ @SupportProphetM  کا یہ دعویٰ ہمارے فیکٹ چیک میں پوری سے جھوٹ نکلا۔

Source:The Indian Express

در اصل، فیکٹ چیک کے دوران ہمیں انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے امام کے قتل کی وجہ پراپرٹی کا جھگڑا  بتایا۔ ساتھ ہی کہا کہ اس معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ اینگل سامنے نہیں پایا گیا۔

  1. ہندوڈرائیور کی جانب سے برقعہ پوش خاتون کو کار سے روندے جانے کا کیا جھوٹا دعویٰ

@SupportProphetM کی جانب سے ایک برقعہ پوش  خاتون کو کار سے روندے جانے کا ویڈیو ٹویٹ کرکے عربی میں کہا گیا کہ حیدرآباد میں ایک ہندو نے اپنی کار سے نقاب پوش مسلم خاتون کو ٹکر ماری اور فرار ہو گیا۔

Source:Twitter

حالانکہ ہمارے فیکٹ چیک میں یہ دعویٰ بھی گمراہ کن پایا گیا۔

دراصل، جانچ-پڑتال کے دوران ہمیں این ڈی ٹی وی  کی ایک رپورٹ ملی۔ جس میں راجندر نگر پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ناگیندر بابو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا  ہے، ’اسی کالونی کا ملزم گاڑی چلانا سیکھ رہا تھا۔ اس دوران گاڑی بے قابو ہوگئی اور لڑکی کو ٹکر ماری۔ ۔ گاڑی، سینٹرو کو ضبط کرلیا گیا‘۔

Source:NDTV
  1. پی ایم مودی کی مخالفت میں شیئر کر ڈالی فیک امیج

وزیراعظم نریندر مودی کی تلمناڈو کے دورے سے متعلق  @SupportProphetM کی جانب سے ایک تصویر پوسٹ کی گئی، جو کسی ریلوے اسٹیشن کے سائن بورڈ کی ہے۔اس تصویر پر لکھا ہے،’Tamil Nadu Ssys Go Back Modi, We Hate You.‘(تملناڈو کہتا ہے، گوبیک مودی، ہم تم سے نفرت کرتے ہیں)۔

Source:Twitter

تصویر کو ٹویٹ کرکے کہا گیا، ان کی نفرت انگیز نسلی تفریق پر مبنی پالیسیوں اور ان کے خطرناک معاشی نتائج کے سبب، ہندوستانی سوشل میڈیا ہیش ٹیگ #GO_BACK_MODIسے گونج اٹھا ہے، جس میں مودی کو چھوڑنے کی اپیل کی گئی ہے۔ کارکنان نے سڑکوں پر پھیلے بینروں کی تصاویر عام کیں، جن میں لکھا تھا،’مودی چلے جاؤ، ہم تم سے نفرت کرتے ہیں‘۔

حالانکہ ہمارے فیکٹ چیک میں اس تصویر کو فیک پایا گیا۔

عرب ممالک میں بھارت مخالف پروپیگنڈہ:

نوپورشرما کے بیان کے بعد عرب ممالک میں بھارت مخالف بد تشہیری (پروپیگنڈہ) کرنے کے لیے اس اکاؤنٹ کے ذریعے کئی ہیش ٹیگ چلائے گئے، جن میں #طرد_السفير_الهندي (بھارتی سفیر کو باہر نکالو)، #مقاطعة_المنتجات_الهندية (بھارتی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرو)، # اطردواالهندوسمن_الخليج (ہندوؤں کو عرب ممالک سے باہر نکالو)، #حاكمواموديوحزبه (مودی اور اس کی گورنمنٹ کا محاکمہ کرو)، #إلا_رسول_الله_يا_مودي  ، #إلا_رسول_الله (یا تو نبی ﷺ کے ساتھ ہو جاؤ یا پھر مودی کے)اور  #غضبةالمليارلرسول_الله (نبی ﷺ  کے لیے کروڑپتیوں کا غضب) وغیرہ شامل ہیں، جو ہنوز جاری ہیں۔ ان ہیش ٹیگ کے ساتھ کیے گئے ٹویٹ میں ہندوستان میں ماضی کے واقعات کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ عرب ممالک کو ایسا لگے کہ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم جلد ہی نسل کشی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

कुवैत में चलने वाले भारत विरोधी हैशटेग का विश्लेषण

یہ ہیش ٹیگ اسی طرح سے چلائے گئے جیسے اس سے پہلے کویت میں چلائے گئے تھے، جس کا انکشاف DFRAC نے اپنی رپورٹ ’کویت میں چلنے والے بھارت مخالف ہیش ٹیگ کا تجزیہ‘ میں کیا گیا ہے۔

#طرد_السفير_الهندي

اس ہیش ٹیگ کو عرب ممالک سے انڈین سفیر کو نکالنے کی اپیل کے ساتھ چلایا گیا۔ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کیے گئے زیادہ تر ٹویٹس میں بھارت میں مسلمانوں پر ہندوؤں کے مظالم کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد سے ہندوتوا سخت گیروں کے اشتعال انگیز تقریروں اور کارناموں کو بنیاد بنایا گیا۔

ٹویٹ-1

ترجمہ: ایک ہندو ساتھ بھارتیوں کو مسلم خواتین کے خلاف مشتعل کرتا ہے اور مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تمھارے خاندان اور تمھاری خواتین کو خطرہ ہوگا۔ ہندو، اسلام پر حملہ کرنا اور اپنے ماننے والوں کے دلوں میں اسلام کے تئیں نفرت پھیلانا بند نہیں کرتے ہیں۔

ٹویٹ-2

ترجمہ : صرف گوشت کے ایک ٹکڑے کی وجہ سے، بھارتی راجدھانی دہلی میں مسلمانوں کے خلاف مقدمے کا مطالبہ کرنے کے لیے کھڑے۔

#إلا_رسول_الله_يا_مودي

#إلا_رسول_الله_يا_مودي  (یا تو نبی یا مودی یعنی دونوں میں ایک چن لو) یہ ہیش ٹیگ نوپور شرما کا بیان سامنے آنے کے فوراً بعد شروع ہوا تھا۔ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کیے گئے ٹویٹس میں بھارت سمیت پوری دنیا میں نوپور شرما کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں (پروٹیسٹ) سے متعلق مواد تھے۔ ساتھ ہی اس کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے براہ راستہ نشانہ بنایا گیا۔

ٹویٹ – 1

ترجمہ: اے دو ارب کے لوگ (امت)… #مودي_قتل_مدثر 25 برس کے بھارتی شہری مدثر خان کو بھارتی پولیس نے سر میں گولی مار دی، جب وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کی مخالفت کر رہا تھا۔

ٹویٹ – 2

ترجمہ: ماضی میں فارس کے بادشاہ خسرونے پیغمبر اسلام کے خط کو پھاڑ دیا۔ پھر رب نے اس کی سلطنت کو ایک رات میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔اور یہی سنت ہماری آنکھوں کے سامنے  مودی اور اس کی پارٹی کے بارے میں دہرائی جا رہی ہے۔ توکیا یہ عبرت نہیں؟

مقاطعة_المنتجات_الهندية (بھارتی پروڈکٹس کا کریں بائیکاٹ)

اس ہیش ٹیگ کے تحت کیے گئےٹویٹس میں داخلی امور سے متعلق ہندوستان کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت ہندوستان کو چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں کلیدی طور پرفیکٹ چیکر زبیر کی گرفتاری، بھارتی روپیے کا ڈالر کے مقابلے گرنا(کمزور ہونا)، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے دھرنے پر پابندی، حجاب پر پابندی، لولو مال تنازعہ، اگنی پتھ یوجنا کی پر تشدد مخالفت وغیرہ کو زور و شور سے اٹھایا گیا۔

ٹویٹ – 1

ترجمہ: مسلمان اہل ہیں۔ ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہموں کی کامیابی کے بعد… جولائی کی پہلی ششماہی میں روپیے کی ریکارڈ نچلی سطح ۔

ٹویٹ-2

ترجمہ: مسلمانوں کے خلاف بھارتی ایڈمنسٹریشن (انتظامیہ) کے جرائم کو اجاگر کرنے والے صحافی محمد زبیر کی ضمانت پر رہائی کی عرضی خارج کر دی گئی، کیونکہ ان کا نام لکھیم پور کھیری میں ایک نئے مقدمے میں درج کر دیا گیا۔

ٹویٹ-3

ترجمہ: حجاب ہمارا حق ہے۔

ٹویٹ-4

ترجمہ: ایک بھارتی افسر کی جانب سے فون چھیننے اور بغیر حجاب کے اس کی تصویریں کھینچنے سے بھارتی مسلم لڑکی گھبرا گئی۔

#مودي_قتل_مدثر(مودی نے مدثر کو مارا)

نوپورشرما کےبیان کے خلاف 10 جون کو جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران مدثر عالم نامی نابالغ کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت مدثر عالم کی موت کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ٹویٹ –1

ترجمہ: #مودي_قتل_مدثرنوجوان نے کچھ نہیں کیا تھا سوائے یہ کہنے کے کہ #إلا_رسول_الله_يامودى تو کیا ہمارا خون سستا ہے۔ تو اس لیے #اطردوا_الهندوس_من_الخليج (ہندوؤں کو خلیج (عرب ممالک) سے نکالو)

ٹویٹ –2

ترجمہ: مدثر کے قتل پر ہم #حاكموا_مودي_وحزبه  پکارتے رہیں گے، یہاں تک کہ قاتولوں پر مقدمہ چلایا جائے۔  ..#مودي_قتل_مدثر یہ جرم…ہم مدثر کے خون کو ضائع نہیں جانے دیں گے۔

#امبراطورية_الإسلام

#اطردوا_الهندوس_من_الخليج

 

#غضبة_المليار_لرسول_الله  (رسول اللہ کے لیے کروڑ پتیوں کا غضب)

اس ہیش ٹیگ کے تحت ہندوستان کی مخالفت کرنے کی اسلامی اسکالرز کے ذریعے اپیل کی گئی۔ اس اپیل میں ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے رہے  مظالم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت اپیل کے کئی ویڈیو بھی جاری کیے گئے۔

ٹویٹ۔1

ترجمہ: قطری صحافی عبد العزیز الانصاری- ہندوؤں کو خلیج عرب سے نکال دیا جانا چاہیے۔

ٹویٹ۔2

ترجمہ:  شیخ رائد صلاج: رسولِ خدا کے سامنے بے نقاب ہو جاتے ہیں اور پھر مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں..یہ کیسی بے وقوفی ہے گایوں کے خدمتگاروں کی۔

#اطردوا_الهندوس_من_الخليج (ہندوؤں کو خلیج (ممالک) سے باہر نکالو)

یہ ہیش ٹیگ عرب اور خلیج میں رہنے والے ہندوؤں کو نکالنے کے لیے چلایا گیا، جس میں کہا گیا کہ خلیج اور عرب ممالک میں رہنے والے ہندو یہاں سے پیسہ کماکر مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

ٹویٹ۔1

ترجمہ: ہمارے پاس کئی پریشر پیپر ہیں جو ہمارے کمزر بھائیوں کو راحت دینے کا ایک سبب ہیں۔

ٹویٹ۔2

ترجمہ: امت مسلمہ کمزرو نہیں ہے…ہندوؤں کو اپنا پیسہ مت دو کیونکہ وہ ہندوستان میں تمھارے مسلمان بھائیوں کو اس سے مار ڈالیں گے۔

ٹویٹ۔3

ترجمہ: جس مجرم بھارتی میڈیا نے پہلے کعبہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی، ہندو اب مانگ کر ہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو بھوکا رہنے کے لیے کوئی نوکری نہ دی!!!۔

ٹویٹ۔4

ترجمہ: ہندو نے ایک لڑکی کوپیٹنے کی دھمکی دی اور اس سے رب تعالیٰ کو برا بھلا کہنے پر مجبور کرتا ہے۔

اے دو ارب کی امت مسلمہ! ہم سے بھارت میں ہمارے بچوں اور خواتین کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہم اللہ کے سامنے کیسے کھڑے ہوں گے؟ آئی جانتے ہیں جواب!

ٹائم لائن:

@SupportProphetM کا یہ ٹویٹر اکاؤنٹ 2021 میں بنایا گیا تھا۔ اس اکاؤنٹ سے پہلا ٹویٹ 13 اکتوبر کو پوسٹ کیا گیا تھا۔ اکاؤنٹ کی جانب سے ایک دن میں کیے گئے سب سے زیادہ ٹویٹس ہے۔ یہ ٹویٹس فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے متعلق کیے گئے تھے۔ٹویٹ1، ٹویٹ 2،  ٹویٹ 3 کو یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں، اکاؤنٹ کی پوسٹ ٹائم لائن مستحکم رہی، تاہم یہ پانچ جون کو پھر سے بڑھنے لگی۔ 30 جون 2022 کو ایک ہی دن میں 80 ٹویٹ کیے گئے۔ یہ سبھی پی ایم مودی کے یو اے ای دورے سے متعلق کیے گئےٹویٹس تھے۔ ٹویٹ 1، ٹویٹ 2، ٹویٹ 3 وغیرہ۔

سمیع الساعدی (@sami_assaadi) کا ذکر کرتے ہوئے پہلا ٹویٹ ہیش ٹیگ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ (#مقاطعة_المنتجات_الفرنسية354) کے بارے میں کیا گیا تھا۔

ہیش ٹیگ کا استعمال

اوپر دیا گیا گراف @SupportProphetM کی جانب سے چلائے گئے سب سے مقبول ہیش ٹیگ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں سب سے زیادہ #طرد_السفير_الهندي کا 325 سے زیادہ مرتبہ اس کے بعد، #غضبةالمليارلرسول_الله کو 310 سے زائد بار استعمال کیا گیا۔

مینشن اکاؤنٹ:

اوپر دیے گئے گراف میں ان اکاؤنٹ کو دکھایا گیا ہے، جنھیں @SupportProphetM کی جانب سے سب سے زیادہ مینشن یا ٹیگ کیا گیا۔ @drassagheer کو سب سے زیادہ 130 بار میشن کیا گیا، اس کے بعد @SupportProphetM کے جنرل سکریٹری رکن @melhamy کو مینشن کیا گیا۔ وہیں @Alhasniy23 کو بھی 45 بار ٹیگ کیا گیا۔

فالوور کریئیشن ٹائم لائن

بعد ازاں ہم نے اکاؤنٹ کی ، اکتوبر 2021 سے جون 2022 کی درمیانی مدت کی جانچ پڑتال کی۔ 4 اکتوبر  2021 کو ٹویٹر پر 186 نئے اکاؤنٹس بنائے گئے، تب تک ان سبھی نے @SupportProphetM کو فالو اور مینشن کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہیں @SupportProphetM بھی اکتوبر کے مہینے میں ہی شروع ہوا تھا۔

فیک فالوور آڈٹ

ہم نے اسپارکٹورو کی جانب سے ایک فیک فالوور کا آڈٹ بھی نکالا۔ جس سے پتہ چلا کہ کے  @SupportProphetM  کے کل فالوور میں سے 24.1 فیصد فالوور فیک نکلے۔ جن کی تعداد 17167 ہے۔

ویریفائیڈ اکاؤنٹ

@SupportProphetM  کے 73.7K سے زائد فالوور ہیں، ان میں سے 42 ویریفائیڈ ٹویٹر اکاؤنٹ @SupportProphetM کو فالو کرتے ہیں۔ ان ویریفائیڈ اکاؤنٹ میں @ShaikhDadow شامل ہیں، جو @SupportProphetM سے وابستہ ہے اور ٹویٹر پر ان کے 305K سے زیادہ فالوور ہیں۔ ان کے بعد  @saeedthabit ہیں جو یمن کے الجزیرہ بیورہ چیف ہیں۔ ان کے بعد   @HaithamAlheweny، ان کے بعد @MustafaSejari   ہیں جو شام کے سیاسی رہنما ہیں۔ پھر @dochijazi اور جرمنی سیریسالا پوسٹ کے چیف ایڈیٹر @HawasAhmad کی جانب سے فالو کیا جاتا ہے۔

نان ویریفائیڈ اکاؤنٹ

@SupportProphetM کے فالوور کا ایک بڑا حصہ نان ویریفائیڈ اکاؤنٹ کا ہے۔ جن میں کویت کے ولید الطباطبائی کے سابق ڈپٹی  @Altabtabieشامل ہیں۔ علاوہ ازیں @mshinqiti، @saiedibnnasser، @drtarekelzomor، @bachtiarnasir وغیرہ کی جانب سے فالو کیا جا تا ہے۔

فالوور لوکیشن

@SupportProphetM کے 25,000 سے زیادہ فالوور کی لوکیشن کا تجزیہ کرنے کرنے کے بعد، ہم نے فالوورس کے لوکیشن کو نشان زد کرتے ہوئے ایک ورلڈ میپ تیار کیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اس اکاؤنٹ کے بہت سے فالوورس کا تعلق مصر سے ہے، اس کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کا نمبر ہے۔ ہندوستان سے 1,000 سے زیادہ اکاؤنٹس @SupportProphetM کو فالو کرتے ہیں۔ بقیہ فالوورس کا تعلق الجزائر، برطانیہ، پاکستان، افغانستان، سوڈان، لیبیا، مراکش وغیرہ سے ہے۔

بھارت سے فالو کرنے والے اکاؤنٹ

@SupportProphetM  کو بھارت سے 1000 سے زائد یوزر ، فالو کرتے ہیں، جن میں@thehawkeyex ، @SamiullahKhan__ (ممبئی سے صحافی)، @Saba_speak،@listenshaad (جمو سے ایڈووکیٹ)، @S_h_mehar، @ShakurK72498965 (راجستھان سے اے آئی ایم آئی ایم کارکن)، وغیرہ شامل ہیں۔

ہیش ٹیگ پر سب سے زیادہ ٹویٹ کرنے والے اکاؤنٹ

اوپر دیا گیا گراف ان اکاؤنٹس کو دکھاتا ہے جنہوں نے @SupportProphetM کے ذریعے چلائے جانے والے 7 ہیش ٹیگ پر ٹویٹ کیا۔ @shafique_faqir نے تمام 7 ہیش ٹیگ پر ٹویٹ کیا جبکہ @Hassanraisi70،@hdayh13،@mhmdahm51014725، AhmedAl33450792، @amlimam2 وغیرہ نے 7 میں سے 6 ہیش ٹیگ پر ٹویٹ کیا۔

سخت گیر (کٹر) سلفی تنظیموں کی حمایت

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیم نام نہاد علماءکو جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ ان میں سے اکثرسخت گیر ( آرتھوڈوکس) سلفی ٓائیڈیالوجی کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اس مکتبۂ فکر کا بانی ابن عبد الوہاب ہے۔اس نے اپنے فتاویٰ کے ذریعے خود نبی کریم ﷺ کی بے حرمتی اور گستاخی کی ہے۔  اس مکتبۂ فکر  کے لوگوں کی تعداد کل مسلمانوں کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن آج اسلامی انتہا پسندی دنیا بھر میں تشدد کا بنیادی ذریعہ ہے۔

ذاکر نائک اور ا ن کے حامی بھارت میں اس مکتبۂ فکر (آئیڈیا لوجی) کو پھیلانے میں نمایاں رہے ہیں۔ وہ یکم جولائی 2016 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہوئے بم بلاسٹ کے بعد سرخیوں میں آئے تھے۔ اس حملے میں 29 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ گرفتار ملزموں میں سے ایک ذاکر نائک سے متاثر تھا۔

पार्ट 1 : जाकिर नाईक का संगठन प्रतिबंधित लेकिन उसका मिशन अब भी जारी

पार्ट 2 : जाकिर नाईक का संगठन प्रतिबंधित लेकिन उसका मिशन अब भी जारी

دھماکے کے بعد بھارت میں ذاکر نائک کے خلاف تفتیش کا آغاز ہوا، جس میں پتہ چلا کہ ان کے بیانات قابل اعتراض ہیں اور مختلف کمیونٹی کے مابین نفرت پھیلاتے ہیں۔ تفتیش کے بعد ذاکر نائک کی تنظیم پر بھارت میں پابندی لگا دی گئی۔ تاہم اس دوران وہ ہندوستان چھوڑ کر ملائیشیا فرار ہوگئے۔ آج بھی ان کے حامی پوری مستعدی کے ساتھ ان کے مشن کو پھیلا رہے ہیں، جن میں آل انڈیا دعوۃ سینٹر ایسوسی ایشن (AIDCA) نمایاں ہے۔ AIDCA کا انکشاف DFRAC نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔@SupportProphetM  کو AIDCA کو فروغ دیتے ہوئے پایا گیا ہے۔

Source: Twitter

اسی طرح @SupportProphetM بھارت مخالف امریکی مصنف اور لاء پروفیسر خالد بائیدون کی بھی تشہیر کرتا ہے، جس کے بھارت مخالف پروپیگینڈہ کے بارے میں ڈی ایف آر اے سی نے اپنی رپورٹ ’ DFRAC ایکسکلوزیو: بھارت فوبیا سے متاثر ہیں امریکی مصنف،پروفیسر خالد بائیدون میں انکشاف کیا ہے۔

Source: Twitter

فیس بک پر بھی بھارت مخالف بد تشہیر

@SupportProphetM کا ٹویٹر کی طرح فیسب پر بھی بھارت مخالف غلط تشہیر جاری ہے۔ فیس بک پر اس کے 84440 سے زیادہ فالوورس ہے۔

فیس بک پر @SupportProphetM کا پیج 12 اکتوبر 2021 کو بنایا گیا تھا اور ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

فیس بک پیج پر 14 رکن ہیں، جن میں سے 11 ترکی سے ہیں۔ٹویٹر کی تمام تصاویر اور ویڈیو کو یکساں طور پر پیج پر بھی پوسٹ کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی DFRAC ٹیم نے @SupportProphetM کی ویب سائٹ کے بارے میں معلومات یکجا کی، جس سے سامنے آیا کہ ویب سائٹ 15 اکتوبر 2021 کو رجسٹر کی گئی تھی۔

ویب سائٹ کی ڈومین اور سرور کی معلومات کو چھپایا گیا ہے۔ ’ریڈیکٹیڈ فار پرائیویسی‘ کا مطلب ہے کہ اطلاع کو چھپا دیا گیا ہے کیونکہ جو کوئی بھی ڈومین کا مالک ہے، وہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس تک پہنچیں۔ 31 اکتوبر 2021 تک ویب سائٹ کا آرکائیو لنک۔

نتیجہ:

متذکرہ بالا تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ @SupportProphet عظمت رسول مقبول ﷺ کے جذباتی معاملے کو اپنے بھارت مخالف ایجنڈے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔  اس کا اہم مقصد عرب اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتیوں کو نکالنا ہے تاکہ غیر ملکی کرنسی(فارن ایکسچینج ریزرو) کی قلت کے سبب بھارت کی معیشت کو نقصان پہنچے۔ نوپور شرما کا بیان، ماب لنچنگ (ہجومی تشدد)، مسلم مخالف تشدد، حجاب پر پابندی وغیرہ ایسے اہم مسائل ہیں، جن پر عرب اور خلیجی ممالک کے عوام کے ذریعے مقامی حکومتوں پر دباؤ بنا کر بھارت کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کی کاروائی کروا سکے۔

Dilshad Noor
Dilshad Noor
Mr. Dilshad Noor is a research fellow at DFRAC with experience of 8 years in the field of journalism He has done his bachelor's in journalism from VMOU, Kota. He has done MA and LLB from the University of Kota. He specializes in report making and research analysis.