Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

کیا اے پی جے عبدالکلام نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو  مدارس میں دہشت گرد بنایا جاتا ہے؟ پڑھیں،فیکٹ چیک

سوشل میڈیا سائٹس پر اخبار کی ایک کٹنگ وائرل ہو رہی ہے، جس میں سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (APJ Abdul Kalam) کی تصویر نظر آ رہی ہے اور ان کا یہ بیان بھی لکھا ہے کہ مسلمان پیدا ئشی دہشت گرد نہیں ہوتا، انھیں مدرسوں میں بنایا جاتا ہے ۔

یوگی سمرتھک نامی یوزر نے  اپریل 2022 کو ہندی میں کیپشن،’وہ کلام کیسے بنے جن کے اندر  قصاب ہو‘ کے ساتھ اخبار کی ایک کٹنگ پوسٹ کی ہے، جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے،’ایک انمول کاغذ کی کٹنگ، جسے لوگوں نےاہمیت نہیں دی‘۔اخبار کی اس کٹنگ میں ڈاکٹر کلام (APJ Abdul Kalam) کی تصویر کے ساتھ ان کا بیان اس طرح درج ہے، ’مسلمان پیدائشی طور پر دہشت گرد نہیں ہوتے۔ انھیں مدرسوں میں قرآن پڑھائی جاتی ہے ، جس کے مطابق وہ ہندو، بَودھ، سکھ، عیسائی، یہودی اور دیگر غیر مسلموں کو چن چن کرمارتے ہیں ۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھارت میں چل رہے  ہزاروں مدارس پر پابندی لگانا بے حد ضروری ہے‘۔

Facebook Screenshot

آنند پرکاش یادو  288 -اسمبلی قیصر گنج کے پیج پر 22 مارچ کے پوسٹ میں عزیز پور کے ایک مدرسے پر بلڈوزر چلائے جانے کی مذمت کی  گئی ہے۔ اسی پوسٹ کے کمنٹ باکس میں پپو سنگھ بہرائچ نامی یوزر نے بھی  وہی پوسٹ کی ہے۔

Facebook Sceenshot

فیکٹ چیک:

انٹرنیٹ پر ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں سابق صدر کلام کا ایسا کوئی بیان نہیں ملا۔ اگر یہ بیان ڈاکٹر کلام کا ہوتا تو یقیناً کسی معتبر ادارے کی طرف سے شائع  یا ذکر کیا جاتا۔ تاہم، ہمیں 14 دسمبر 2014 کا ایک ہندی زبان میں بلاگ پوسٹ ملا جس میں وائرل کلپ کا  ٹیکسٹ(متن) تحریر ہے، جو اے پی جے عبدالکلام  (APJ Abdul Kalam)کے وائرل  اخبار کی کٹنگ پر بھی لکھا گیا ہے۔ اس کا عنوان ’کمپیوٹر اور قرآن‘ ہے۔ یہ بلاگ ایل آر گاندھی کے نام سے لکھا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ ستمبر 2021 میں بھی اسی اخبار کی کٹنگ کی پکچر وائرل ہوچکی تھی۔

نتیجہ:

DFRAC  کے اس  فیکٹ چیک ثابت ہوتا ہے کہ سابق صدر ڈاکٹر کلام (APJ Abdul Kalam) نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے اور یہ اخبار کی کٹنگ فوٹو شاپڈ ہے لہذا صارفین اسے فرضی  دعوے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

دعویٰ:مسلمانوں کو  مدارس میں دہشت گرد بنایا جاتا ہے: اے پی جے عبدالکلام

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: فیک

(آپ DFRAC# کو ٹویٹر، فیسبک اور یوٹیوب پر فالو کر سکتے ہیں۔)