سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے، جس میں بارش کے دوران آسمان سے بڑے سائز کے اولے گرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اولے گرنے سے کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ صارفین اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ بڑے بڑے اولے گرنے کا یہ واقعہ مہاراشٹر میں پیش آیا ہے۔
ارون یادو کوسلی نامی ایک صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’مہاراشٹر میں شدید اولہ باری۔‘‘

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ مہاراشٹر میں بڑے سائز کے اولے گرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیو ہے۔ وائرل ویڈیو کی جانچ کے دوران ہمیں کئی ایسے شواہد ملے، جو عام طور پر اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں پائے جاتے ہیں۔
ویڈیو کو غور سے دیکھنے پر ہم نے پایا کہ ایک سبزی کی دکان بڑے بڑے اولے گرنے سے تباہ ہو جاتی ہے، لیکن اس کے بورڈ پر لکھے ہوئے الفاظ نہ تو ہندی زبان کے ہیں اور نہ ہی مراٹھی زبان کے۔ اس طرح کی زبان سے متعلق غلطیاں عام طور پر اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں دیکھی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جو گاڑی بڑے بڑے اولے گرنے سے تباہ ہوتی ہے، اس کی نمبر پلیٹ پر صرف تین ہندسے ہیں، جبکہ بھارت میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پر چار ہندسے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ جانچ کے دوران ہم نے پایا کہ ویڈیو میں مختلف زاویوں سے کی گئی ریکارڈنگ بھی شبہ پیدا کرتی ہے۔ اتنے بڑے سائز کے اولے گرنے جیسی خطرناک صورتحال میں عام طور پر کوئی شخص اتنی منظم اور مختلف زاویوں سے ویڈیو ریکارڈ نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر ویڈیو کے آخری حصے میں کیمرہ سڑک کے درمیان زمین کے قریب رکھ کر آسمان کی طرف منظر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس طرح کی پُرسکون اور منصوبہ بند ریکارڈنگ غیر فطری معلوم ہوتی ہے، جس سے ویڈیو کی حقیقت پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
مزید جانچ کے لیے ہم نے مہاراشٹر میں بڑے سائز کے اولے گرنے کے حوالے سے گوگل پر چند کلیدی الفاظ تلاش کیے، لیکن ہمیں ایسی کوئی نیوز رپورٹ نہیں ملی جس میں بڑے سائز کے اولے گرنے کی اطلاع دی گئی ہو۔
ہماری ٹیم نے مزید جانچ کے لیے اے آئی ماہر میانک شرما سے بھی رابطہ کیا۔ میانک شرما نے ہمیں بتایا کہ ویڈیو میں کئی ایسے شواہد موجود ہیں جو اس کے اے آئی جنریٹڈ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیو میں اولوں کا سائز، ان کی رفتار اور زمین سے ٹکرانے کے بعد ہونے والے ردِعمل قدرتی طبعی اصولوں کے مطابق نظر نہیں آتے۔ میانک شرما نے یہ بھی بتایا کہ ویڈیو میں کیمرے کی حرکت اور مختلف زاویوں سے ریکارڈ کیے گئے مناظر غیر معمولی معلوم ہوتے ہیں۔ اتنے بڑے سائز کے اولے گرنے کے دوران جس طرح پرسکون انداز میں مختلف زاویوں سے ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے، وہ حقیقی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ یہ مہاراشٹر میں بڑے سائز کے اولے گرنے کی حقیقی ویڈیو نہیں، بلکہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیو ہے۔
