سوشل میڈیا پر وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کی ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے حوالے سے پاکستان کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا:
"پاکستان نے جنتر منتر احتجاج کے ذریعے ہم سے ایک قابل وزیر چھین لیا۔ اب پاکستان کے رونے کا وقت آ گیا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں دیکھنا، پی او کے میں کیا ہونے والا ہے۔”
اس ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے کہ راجناتھ سنگھ نے احتجاج کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں کارروائی کی دھمکی دی۔

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی نے وائرل دعوے کی جانچ کی اور اسے جھوٹا پایا۔ ریورس امیج سرچ کے ذریعے ہمیں اے این آئی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی گئی اصل ویڈیو ملی۔ اس ویڈیو میں وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کارگل وجے دیوس کی تقریب کے دوران دراس میں خطاب کر رہے ہیں۔ اصل خطاب میں انہوں نے کہا:
"ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ اگر بات ہوگی تو صرف پی او کے پر ہوگی، جو بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور جس پر پاکستان نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔”

اصل ویڈیو میں کسی بھی مقام پر راجناتھ سنگھ نے جنتر منتر کے احتجاج، کسی وزیر کے استعفے یا وائرل ویڈیو میں منسوب کیے گئے بیان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
مزید تصدیق کے لیے ڈی ایف آر اے سی نے دی ٹائمز آف انڈیا اور دی ہندو کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا۔ دونوں رپورٹس میں راجناتھ سنگھ کے اسی مؤقف کا ذکر ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، جس پر پاکستان نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھارتی مسلح افواج فیصلہ کن جواب دیں گی۔ آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کامیابی نے ثابت کیا کہ بھارت پاکستان کی اشتعال انگیزی کا اس کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈی ایف آر اے سی نے وائرل ویڈیو کا تجزیہ ڈیٹیکٹ ویڈیو اے آئی اور ڈیپ فیک-او-میٹر جیسے اے آئی ٹولز کے ذریعے بھی کیا۔ دونوں پلیٹ فارمز کی جانچ میں ویڈیو میں اے آئی سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ آڈیو کے آثار سامنے آئے۔

تحقیقات کے دوران ڈی ایف آر اے سی نے اے آئی ماہر کمار انیکیت سے بھی رائے لی۔ انہوں نے وائرل ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس کی آڈیو میں ترمیم کی گئی ہے اور یہ راجناتھ سنگھ کی اصل تقریر سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ان تمام شواہد کی بنیاد پر ڈی ایف آر اے سی نے نتیجہ اخذ کیا کہ اصل ویڈیو کے مناظر برقرار رکھتے ہوئے اس کی مستند آڈیو کو ہٹا کر من گھڑت آڈیو شامل کی گئی، تاکہ وزیرِ دفاع سے جھوٹے بیانات منسوب کیے جا سکیں۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کی جانچ سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرل دعویٰ جھوٹا ہے۔ وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے نہ تو یہ کہا کہ "پاکستان نے جنتر منتر احتجاج کے ذریعے ہم سے ایک قابل وزیر چھین لیا” اور نہ ہی وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیے گئے انداز میں پی او کے میں کارروائی کی دھمکی دی۔ وائرل ویڈیو کو مستند آڈیو کی جگہ من گھڑت آڈیو شامل کرکے ڈیجیٹلی آلٹرڈ کیا گیا ہے تاکہ ایک گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا سکے۔
