Himachal assault case

فیکٹ چیک: ہماچل پردیش میں خواتین کی پٹائی کے معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ایک شخص دو خواتین کو جوتوں سے مارتا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ اردگرد کئی لوگ کھڑے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ ہماچل پردیش کی ویڈیو ہے، جہاں ہندوتوا کی بھیڑ نے دو مسلم خواتین کو سرِعام تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم فورم نامی صارف نے انگریزی میں کیپشن لکھا، جس کا اردو ترجمہ ہے: "ہماچل پردیش میں ہندوتوا دہشت گردوں کی جانب سے مجمع کے سامنے مسلم خواتین پر تشدد کیا جا رہا ہے۔” یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جسے اب تک 4500 سے زائد لائکس اور 3300 سے زیادہ ری پوسٹس مل چکی ہیں۔

Link

اسی طرح ناد نامی ایک اور صارف نے بھی یہی دعویٰ کرتے ہوئے ویڈیو شیئر کی۔

Link

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن خواتین کی پٹائی کی جا رہی ہے وہ مسلم نہیں ہیں اور اس واقعے کا کوئی بھی فرقہ وارانہ پہلو نہیں ہے۔ خواتین کو مندر میں چوری کے الزام میں مارا گیا تھا۔ ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع کے نورپور تھانے کے انچارج سریندر کمار نے بھی اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس واقعے میں کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔

تحقیق کے دوران ہماری ٹیم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے اہم فریمز نکالے اور پھر گوگل لینز کی مدد سے ریورس امیج سرچ کی۔ اس دوران ہمیں اے بی پی نیوز اور نیوز 18 ہندی کی رپورٹس ملیں، جن میں اسی ویڈیو کے اسکرین شاٹس موجود تھے۔

اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کانگڑا ضلع کے نورپور علاقے میں واقع مشہور ناگنی ماتا مندر میں چوری کی کوشش کے الزام میں دو خواتین کو مقامی لوگوں نے پکڑ لیا۔ اطلاعات کے مطابق مندر میں موجود عقیدت مندوں نے ان خواتین پر چوری کا شبہ ظاہر کیا، جس کے بعد مشتعل لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور جوتوں سے مارا۔ اس دوران مندر میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

نیوز 18 ہندی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نورپور میں جاری مشہور ناگنی ماتا میلے کے دوران کچھ لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ چوری کے شبہے میں دو خواتین کو سرِعام بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔ بھیڑ نے انہیں چپلوں اور ڈنڈوں سے زد و کوب کرنا شروع کر دیا۔ اس پورے واقعے کی کسی نے ویڈیو بنا لی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔ خواتین کے ساتھ پیش آنے والے اس تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نورپور پولیس فوراً حرکت میں آگئی اور معاملے کی حساسیت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے ازخود نوٹس لے لیا۔

مزید تحقیق کے دوران ہمیں اس وائرل ویڈیو کے حوالے سے ہماچل پردیش پولیس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ ملی، جس میں بتایا گیا کہ نورپور پولیس ضلع نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے سلسلے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 126(2)، 115(2) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کر کے غیرجانبدارانہ اور گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی کہ غیر مصدقہ یا گمراہ کن مواد شیئر نہ کریں اور اگر اس واقعے سے متعلق کوئی مستند معلومات ہوں تو وہ پولیس کو فراہم کریں۔

اس کے بعد ہماری ٹیم نے مزید معلومات کے لیے نورپور تھانے کے انچارج سریندر کمار سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں خواتین مسلم نہیں ہیں اور اس واقعے کا کسی بھی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ کہنا کہ ہندوؤں کی بھیڑ نے مسلم خواتین کو مارا پیٹا، مکمل طور پر جھوٹا دعویٰ ہے۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ خواتین کی پٹائی کے وائرل ویڈیو کا کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے اور نہ ہی متاثرہ خواتین مسلم ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو مندر میں چوری کے شبہے میں مارا گیا تھا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر کیا جانے والا دعویٰ گمراہ کن ہے۔