فیکٹ چیک: کیا جنریشن زی پر تبصرے کے بعد خواتین نے کنگنا رناوت کی پٹائی کی؟ نہیں، یہ دعویٰ گمراہ کن ہے

Fact Check Featured Misleading-ur

گزشتہ دنوں دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔ اس دوران کئی ویڈیوز اور مختصر ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا۔ اسی دوران اداکارہ اور بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت کا ایک بیان بھی کافی زیرِ بحث رہا۔ طلبہ اور جنریشن زی کے اس احتجاج میں استعمال ہونے والی زبان اور مختصر ویڈیوز پر اعتراض کرتے ہوئے کنگنا رناوت نے نئی نسل کو ’’گٹر جنریشن‘‘ قرار دیا تھا۔

اب اسی معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک ہجوم کو ایک نوجوان خاتون کے ساتھ دھکا مکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں پر کنگنا رناوت کے بیان کے بعد خواتین نے ان کی پٹائی کر دی۔ ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’سننے میں آیا ہے کہ جنریشن زی کنگنا رناوت سے بہت ناراض ہے۔ آج کنگنا رناوت کہیں گاڑی سے جا رہی تھیں، جس کے بعد لڑکیوں نے انہیں گھیر لیا اور کئی تھپڑ مارے۔‘‘

Link

ایک دوسرے صارف نے لکھا: ’’سننے میں آ رہا ہے کہ عوام نے کنگنا کی پٹائی کر دی ہے… بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ اور اراکینِ اسمبلی کی پٹائی شروع ہو گئی ہے۔‘‘

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو کنگنا رناوت کی پٹائی کی نہیں، بلکہ مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں ترنمول کانگریس کے رہنما کرشنا داس کی بیٹی پرنیتا داس کے ساتھ پیش آنے والے دھکا مکی کے واقعے کی ہے۔ مزید برآں، جلپائی گوڑی نیوز کے مدیر پنکی رنجن نے بھی بتایا کہ اس ویڈیو کو گمراہ کن انداز میں کنگنا رناوت سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے آغاز میں ہماری ٹیم نے ویڈیو کا بغور جائزہ لیا، جس میں جلپائی گوڑی ڈیجیٹل نیوز کا لوگو نظر آیا۔ اس کے بعد متعلقہ ادارے کی تلاش کی گئی، جہاں یہی ویڈیو ان کے فیس بک صفحے پر موجود ملی۔ اس کے ساتھ لکھا گیا تھا: ’’تازہ خبر: جلپائی گوڑی کوتوالی پولیس اسٹیشن پہنچنے پر کرشنا داس کی بیٹی کے خلاف لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔‘‘

مزید تحقیق کے دوران یہی واقعہ اے این آئی بھارت کے یوٹیوب چینل پر بھی ملا، جہاں بتایا گیا کہ مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں تھانے کے باہر ترنمول کانگریس کے رہنما کرشنا داس کی بیٹی پرنیتا داس کی گاڑی پر انڈے پھینکے گئے۔

گوگل پر مزید تلاش کے دوران دی ٹیلی گراف اور ملینیم پوسٹ کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق، جلپائی گوڑی ضلع پریشد کی ترنمول رکن پرنیتا داس کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر کوتوالی پولیس اسٹیشن پہنچیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین کارکنوں نے انہیں گھیر لیا۔ پرنیتا داس، ترنمول کانگریس کے درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے سابق ضلعی صدر کرشنا داس کی بیٹی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، 4 مئی 2026 کو انتخابی نتائج کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کے ایک مقدمے میں باپ اور بیٹی دونوں کے نام سامنے آئے تھے۔

اسی طرح ملینیم پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت کے حکم پر پرنیتا داس جلپائی گوڑی کوتوالی پولیس اسٹیشن پہنچیں، جہاں ان پر انتخاب کے بعد مبینہ حملے کے مقدمے میں تعاون کرنے کی ذمہ داری تھی۔ پولیس اسٹیشن کے باہر موجود خواتین مظاہرین کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی روک لی اور اس پر انڈے پھینکے۔ جب پولیس نے انہیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کی تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور بعض مظاہرین نے مبینہ طور پر ان کے بال کھینچے اور ان کے ساتھ ہاتھاپائی کی۔

مزید معلومات کے لیے ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جلپائی گوڑی نیوز کے بانی اور مدیر پنکی رنجن سے رابطہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ جلپائی گوڑی کا ہے، جسے گمراہ کن انداز میں کنگنا رناوت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ایک مقدمے کے سلسلے میں ترنمول رہنما کرشنا داس کی بیٹی پرنیتا داس کوتوالی پولیس اسٹیشن آئی تھیں، جہاں باہر موجود ہجوم کے بعض افراد نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ کنگنا رناوت کی پٹائی کا دعویٰ غلط ہے۔ دراصل یہ ویڈیو مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں ترنمول کانگریس کے رہنما کرشنا داس کی بیٹی پرنیتا داس کے ساتھ پیش آنے والے دھکا مکی کے واقعے کی ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا پر کیا جانے والا دعویٰ درست نہیں۔

Claim ReviewKangana Ranaut was beaten up by women.
Claimed ByX UserAYODHYA WALE and Satpal Yadav Samajwadi Party Noida Vidhan Sabha 61
Fact CheckMisleading

Our Sources:

  1. Facebook Post of Jalpaiguri Digital News.
  2. News Coverage of Jalpaiguri News
  3. News Report of The Telegraph published on 31/07/2026
  4. News Report of millennium post published on 31/07/2026
  5. News Report of ANI Bharat, Video upload on 30/07/2026
  6. Statement of Founder & Editor of Jalpaiguri News to DFRAC.