سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں ایک زخمی خاتون روتے ہوئے فون پر اپنے والد کو مارپیٹ کے واقعے کے بارے میں بتاتی نظر آ رہی ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ خاتون نے مظاہرے کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی مرحومہ والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے، جس کے بعد اس کی پٹائی کی گئی۔
ارون یادو نامی ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا،
"ارے… لے… لے… لے… مودی جی اور ان کی مرحومہ والدہ کو گالی دینے سے پہلے اپنے والد سے پوچھا تھا کیا؟”

اسی ویڈیو کو کمل نارائن مشرا نامی ایک اور صارف نے بھی اسی طرح کے دعوے کے ساتھ شیئر کیا۔

اس کے علاوہ کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو اسی طرح کے ملتے جلتے دعوؤں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ بعض صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ خاتون کی پٹائی بجرنگ دل کے ارکان نے کی۔ ان پوسٹس کو یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ کی اور دعوے کو گمراہ کن پایا۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو وارانسی فیملی کورٹ میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے تنازعے کی ہے۔ وارانسی کی کینٹ پولیس نے بھی اس وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔
جانچ کے لیے ٹیم نے سب سے پہلے ویڈیو کو کی فریمز میں تبدیل کیا اور پھر گوگل لینس کے ذریعے ریورس امیج سرچ کی۔ اس دوران یہی ویڈیو نیوز 18 انڈیا کے یوٹیوب چینل پر 18 جولائی کو "وارانسی کورٹ میں ہنگامہ! بیوی پر جان لیوا حملہ” کے عنوان سے اپ لوڈ ملی۔
مزید تحقیق کے لیے ہماری ٹیم نے گوگل پر اس واقعے سے متعلق چند کلیدی الفاظ تلاش کیے۔ اس دوران ہمیں امر اُجالا، دینک جاگرن اور پربھات خبر سمیت متعدد میڈیا رپورٹس ملیں۔ دینک جاگرن کی رپورٹ کے مطابق، کینٹ تھانہ علاقے میں واقع فیملی کورٹ میں ایک خاتون کے ساتھ اس کے شوہر کی جانب سے مارپیٹ اور سونے کی چین چھیننے کا واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

امر اُجالا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ جَنسا تھانہ علاقے کے خرگوپور گاؤں کی رہائشی ارچنا مشرا جمعرات کی صبح تقریباً 11:45 بجے فیملی کورٹ (پرنسپل) میں اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے پہنچی تھیں۔ الزام ہے کہ وہاں ان کے شوہر اکھنڈ پرتاپ اُپادھیائے نے بدتمیزی شروع کر دی۔ پہلے گالی گلوچ کی، پھر ان کے کردار پر نازیبا تبصرے کیے اور احتجاج کرنے پر مارپیٹ کی۔ متاثرہ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ مارپیٹ کے دوران ملزم نے ان کے گلے سے سونے کی چین اور لاکٹ بھی چھین لیا۔
وہیں، پربھات خبر کی رپورٹ کے مطابق، وارانسی کے کینٹ تھانہ علاقے میں واقع فیملی کورٹ میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب ایک خاتون نے اپنے شوہر پر مارپیٹ کا الزام لگایا۔ متاثرہ خاتون ارچنا مشرا، ساکن خرگوپور (جَنسا تھانہ)، نے پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا کہ وہ صبح تقریباً 11:45 بجے اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے فیملی کورٹ پہنچی تھیں۔ خاتون کے مطابق، ان کے شوہر اکھنڈ پرتاپ اُپادھیائے، ساکن گڑکھڑا (سندھورا تھانہ)، پہلے سے ہی عدالت کے احاطے میں موجود تھے۔ الزام ہے کہ وہاں پہنچتے ہی انہوں نے گالی گلوچ شروع کر دی اور ان کے کردار کے بارے میں نازیبا تبصرے کیے۔
مزید تحقیق کے لیے ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وارانسی کینٹ پولیس تھانے سے رابطہ کیا۔ پولیس نے وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس واقعے کا سی جے پی احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ واقعہ وارانسی فیملی کورٹ میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے تنازعے کا ہے اور اس کا سی جے پی احتجاج سے کوئی تعلق نہیں۔
