ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ چوری کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اپوزیشن اس معاملے پر کئی سوالات اٹھا رہی ہے۔ اسی دوران بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ منوج تیواری کا ایک مبینہ بیان وائرل ہو رہا ہے۔ نو بھارت ٹائمز کے ایک پوسٹ کارڈ پر منوج تیواری کے نام سے یہ بیان درج ہے: ’’رام مندر ہم نے بنوایا ہے۔ ہم لوٹیں، چوری کریں یا بیچ دیں، اپوزیشن کو کیا لینا دینا ہے۔ عوام کا پیسہ ہم نے کھایا ہے، اپوزیشن میرا کیا بگاڑ لے گی۔‘‘
اس پوسٹ کارڈ کو شیئر کرتے ہوئے منوج یادو نامی صارف نے لکھا، ’’خود ہی قبول کر لیا ہے، اب ہم سماجوادی کچھ نہیں کر سکتے۔ اب جو ہوگا، پربھو شری رام جی کے ذریعے ہوگا، اور اگر نہیں ہوا تو سمجھو پربھو شری رام بی جے پی اور آر ایس ایس کے سامنے کمزور ہیں۔‘‘

دوسری جانب فیس بک پر منوج کمار نامی صارف نے یہ پوسٹ کارڈ شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’دیکھ لو بھکتو… یہ ہیں ہمارے ملک کے عظیم لیڈر جی کا بیان۔ اسے کہتے ہیں ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔ اپوزیشن کا نام لے کر عوام کو بتا رہے ہیں کہ جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو، اقتدار میں ہم ہیں، جو ہمارے دل میں ہوگا وہی کریں گے، کوئی کچھ نہیں بول سکتا۔‘‘

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل پوسٹ کارڈ کی جانچ کی اور اسے فرضی پایا۔ جانچ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ منوج تیواری نے رام مندر کے چندے کی چوری کے معاملے پر ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی نو بھارت ٹائمز (این بی ٹی) نے ایسا کوئی پوسٹ کارڈ شائع کیا ہے۔
ہم نے سب سے پہلے وائرل بیان کے حوالے سے منوج تیواری کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا۔ ہمیں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر منوج تیواری کی جانب سے اس وائرل بیان کی تردید ملی۔ انہوں نے نازیہ نامی صارف کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’جھوٹی خبر پھیلانے والی اس نازیہ کے خلاف فوراً کارروائی ہونی چاہیے۔ میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں۔ میں ایکس اور ایکس کارپ انڈیا سے درخواست کرتا ہوں کہ اس جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کریں۔ یہ میری ساکھ اور سماج دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔‘
چونکہ وائرل پوسٹ کارڈ پر نو بھارت ٹائمز کا لوگو موجود تھا، اس لیے مزید جانچ کے لیے ہم نے نو بھارت ٹائمز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا۔ ہمیں این بی ٹی ہندی نیوز کے ایکس اکاؤنٹ پر اس پوسٹ کارڈ کے حوالے سے ایک تردیدی بیان ملا، جس میں نو بھارت ٹائمز نے وائرل پوسٹ کارڈ کو فرضی قرار دیا۔
این بی ٹی نے لکھا: ’’گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر این بی ٹی کے نام سے کئی فرضی پوسٹس وائرل کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے گمراہ کن اور غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ براہِ کرم محتاط رہیں، یہ تمام پوسٹس مکمل طور پر فرضی ہیں۔ این بی ٹی کے نام کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی خبر کی صداقت اور سرکاری معلومات کے لیے صرف این بی ٹی کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پلیٹ فارمز پر ہی اعتماد کریں۔‘‘
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ منوج تیواری نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ اسی طرح نو بھارت ٹائمز نے بھی ایسا کوئی پوسٹ کارڈ جاری نہیں کیا۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ غلط ہے۔
