Digital Forensic, Research and Analytics Center

اتوار, دسمبر 4, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: گلاب جامن پر پیشاب کرتے نوجوان کے وائرل ویڈیو کی جانیں،حقیقت

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

فیکٹ چیک: سعودی عرب کے کھلاڑی علی نے میسی سے کہا – اسلام لے آؤ؟

فیفا ورلڈ کپ 2022 قطر میں کھیلا جا رہا...

پی ایم مودی کے موربی دورے پر خرچ ہوئے 30 کروڑ ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر گجراتی زبان کے ایک مبینہ اخبار...

کیا وائی ایس آر نے سونیا گاندھی کے سبب عیسائی مذہب اختیار کیا؟ پڑھیں فیکٹ چیک 

آندھرا پردیش کے موجودہ وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی کے...

کانگریس نے ’پنجہ‘انتخابی نشان مذہبِ اسلام سے متاثر ہو کر لیا ہے؟ پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر انڈین نیشنل کانگریس پارٹی (آئی این سی انڈیا) کے انتخابی نشان ہاتھ کا ’پنجہ‘کے بارے میں ایک دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس دعوے کے مطابق کانگریس کے ’پنجہ‘ انتخابی نشان کو مسلمانوں کے مذہبی مقامات مقدسہ میں سے ایک عراق کے کربلا سے لیا ہے۔ سوشل میڈیا یوزرس اپنے پوسٹ کے ساتھ ایک گرافیکل فوٹو بھی شیئر کر رہے ہیں۔ 

اس گرافیکل تصویر میں لکھا ہے،’کربلا کے میدان میں شہید ہونے والے حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو اسلامی شجاعت، اسلامی جدوجہد اور اسلامی قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں بت یا تصویر کی پوجا/عبادت حرام ہے، اس لیے کسی تصویر یا بت کی پوجا نہ کرتے ہوئے صرف ان 5 انگلیوں کے پنجوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی نشانِ اسلامیت کو کانگریس نے اپنا انتخابی نشان بنایا۔ 99% ہندو اس بات سے واقف نہیں تھے، جب کہ تمام مسلمان شروع سے ہی جانتے تھے، لیکن کوئی نہیں بتاتا تھا۔ مسلمانوں کا مذہبی نشان ہونے کے سبب مسلمان زیادہ شدت سے جڑا رہا جبکہ ہندوؤں کو علم نہ ہونے کے سبب اور کانگریس سے ربط ہونے کے سبب کانگریس سے وابستہ رہا‘۔ 

اس گرافیکل پوسٹر کو شیئر کرتے ہوئے، ایک یوزر نے لکھا،’غور سے دیکھیے کہ کانگریس کیسے غیر ہندوؤں کے ساتھ مل کر ہندوؤں کو گمراہ کرتی ہے۔ #CongressAgainstHindus‘۔ 

ساتھ ہی کئی دیگر یوزرس بھی اس پوسٹر کو شیئر کر رہے ہیں۔

فیکٹ چیک:

وائرل دعوے کا فیکٹ چیک کرنے کے لیے ہم نے گوگل پر ایک سمپل سرچ کیا۔ ہمیں دینک بھاسکر کی جانب سے پبلش ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ کو سرخی،’ ہیمامبیکا مندر میں مورتی نہیں صرف دیوی کے دو ہاتھ: کانگریس کا ہاتھ کا پنجہ اسی مندر سے ترغیب یافتہ، اندرا گاندھی کی تھی خاص آستھا‘ دی گئی ہے۔ 

اس رپورٹ کے مطابق ’ہاتھ کا پنجہ اندرا گاندھی نے اسی ہیمامبیکا مندر کو دھیان میں رکھ کر چنا تھا ہیمامبیکا  مندر دنیا بھر کے ماتا مندروں میں سب سے منفرد ہے۔ یہاں ماتا کی مورتی نہیں ہے۔ محض دو ہاتھ ہیں۔ انہی کو دیوی کے روپ میں پوجا جاتا ہے۔ اس مندر کو ایمور بھگوتی مندر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کیرالا کے ضلع پڈکّل کی کلیکُلنگرا تحصیل میں ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ بھگوان پرشو رام نے اس مندر کو بنایا تھا‘۔ 

وہیں اس تناظر میں مزید معلومات حاصل کرنے پر ہمیں کانگریس کے سینیئر رہنما دگوجے سنگھ کا ایک ٹویٹ ملا۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے لکھا،’یہ ایک تاریخی سچ ہے جسے بی جے پی اور سنگھ ہمیشہ کچھ اور ہی بتاتے رہتے تھے۔ ہیمامبیکا مندر میں مورتی ہی نہیں، دیوی کے صرف دو ہاتھ: کانگریس کے ہاتھ کا پنجہ اسی مندر سے متاثر،

اندرا گاندھی کی تھی خاص آستھا (عقیدت)‘۔

قابل ذکر ہے کہ کئی دیگر میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی کا انتخابی نشان ہیمامبیکا مندر سے لیا گیا ہے۔

نتیجہ:

وائرل گرافیکل تصویر کے فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہو رہا ہے کہ کانگریس کا انتخابی نشان، نواسۂ رسول ﷺ، شہید کرب و بلا حضرت امام حسینؓ سے نہیں لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی نشان کیرالا کے ضلع پڈکل کے ہیما مبیکا مندر سے لیا گیا ہے، اس لیے سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے کیا جا رہا دعویٰ غلط ہے۔

دعویٰ: کانگریس کا انتخابی نشان پنجہ مذہبِ اسلام سے لیا گیا ہے

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: فیک