Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

کیا باباصاحب امبیڈکر ہندومت کے کٹّر پیروکار تھے؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

آئینِ ہند کے معمار، باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بارے میں سماج اور سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہتا ہے۔ کئی طرح کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے کہ بابا صاحب امبیڈکر ہندو مت کے کٹّر پیروکار تھے۔

بھارتی نامی یوزرنے ٹویٹ کیا،’بھیم راؤ امبیڈکر جی ہندو دھرم کے کٹر پیروکار تھے۔ اُدت راج جی اور اس طرح کے لوگ امبیڈکر جی کو ہندومت سے الگ کرکے مسلم ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مقصد: ہندوؤں کو بانٹو اور ہندوستان پر قبضہ کرو‘۔

یوزرس کی جانب سے کیے گئے اسی طرح کے دعوے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

فیکٹ چیک 

ہم نے باباصاحب امبیڈکر کے ہندومت کے کٹر پیروکار ہونے کے دعوے کی حقیقت جاننے کی غرض سے گوگل پر ایک سمپل سرچ کیا۔اس حوالے سے ہمیں مختلف میڈیا ہاؤسز کی جانب سے پبلش بہت سی رپورٹس ملیں۔

ہیڈ لائن، ’امبیڈکر نے ہندو دھرم کو کیوں چھوڑا اور کیوں لے لی بَودھ دیکشا‘ کے تحت آج تک کی جانب سے پبلش ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بابا صاحب امبیڈکر بھیم راؤ امبیڈ کر کا جنم ہندو ذات میں اچھوت اور نچلی مانی جانے والی ذات، مہار میں ہوا تھا۔ انہوں نے ہندو دھرم میں وسیع پیمانے پر راسخ؛ چھواچھوت، دلتوں، خواتین اور مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائی اور اس مہم کو اتنا تیز کیا کہ 14 اکتوبر 1956 کو ناگپور میں اپنے تین لاکھ 80 ہزار حامیوں کے ساتھ بدھ مت اختیار کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پوری دنیا میں تبدیلیٔ مذہب کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔

باباصاحب امبیڈکر نے زندگی بھر چھواچھوت اور ذات پات کے خلاف لڑتے رہے۔ دی وائر کی جانب سے پبلش ایک تفصیلی مضمون میں بتایا گیا ہےکہ امبیڈکر کے بدھ مت کو ایک مناسب مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کے پیچھے اس میں نہاں اخلاقیات اور عقلیت پسندی ہے۔

دی وائر
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق- ’امبیڈکر ذات پات کے نظام کے اس قدر خلاف تھے کہ 13 اکتوبر 1935 کو مہاراشٹر کے ییولا میں، انہوں نے کہا تھا،’میں ایک ہندو کے طور پر پیدا ہوا ہوں، لیکن ایک ہندو کے طور پر نہیں مروں گا، کم از کم یہ میرے اختیار میں ہے‘۔

نتیجہ

DFRAC کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ باباصاحب امبیڈکر ہندو ذات میں اچھوت اور نچلی سمجھی جانے والی ذات؛ مہار میں پیدا ضرور ہوئے تھے مگر ان کی موت بدھ مت میں ہوئی تھی، کیونکہ انہوں نے 1956 میں اپنے لاکھوں ماننے والوں کے ساتھ بدھ مت اپنا لیا تھا۔ سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے بابا صاحب کے کٹر ہندو ہونے کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ 

دعویٰ: امبیڈکر ہندومت کے سخت پیروکار تھے

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: گمراہ کن