Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

فیکٹ چیک: کیا چینی فوج میں شامل ہو رہی ہے گورکھا ریجیمنٹ؟

اگنی پتھ یوجنا کا اعلان بھارت میں متنازعہ رہا ہے، جون میں اعلان کے فوراً بعد اسے امیدواروں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ فوج نے کہا کہ اس یوجنا کا کوئی رول بیک نہیں ہوگا۔ اگنی پتھ یوجنا کے تحت  75 فیصد جوانوں کو چار سال کی سروس کے بعد ریٹائر کر دیا جائے گا اور انھیں پینشن کے بغیر ایک مشت رقم کی ادائیگی کر دی جائےگی۔

اس یوجنا نے سوشل میڈیا پر خوب توجہ پائی اور میڈیا میں سرخیوں میں رہی۔ اس دوران شیئر کی جانے والی خبریں کچھ سچ تھیں، کچھ جھوٹی تو کچھ گمراہ کن۔

اس درمیان انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کو شیئر کرتے ہوئے ایک یوزر نے ٹویٹر پر لکھا:ایسا ہونا تو طے تھا۔ اب گورکھا چینی فوج میں شامل ہو رہے ہیں۔ بھارت ماتا کی جے۔

فیکٹ چیک

وائرل دعوے کی پڑتال کے لیے DFRAC  ڈیسک نے  سب سے پہلے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو دیکھا، جس کی ہیڈلائن میں کہا گیا ہے کہ نیپال نے اگنی پتھ یوجنا کے تحت انڈین آرمی میں گورکھاؤں کی بھرتی کو روک دیا ہے۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاٹھمانڈو نے 75 سال پہلے شروع ہوئی ایک روایت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے اگنی پتھ یوجنا کے تحت انڈین آرمی میں گورکھاؤں کی بھرتی کو فی الحال روک دیا ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگنی پتھ کے تحت چار سال کی مدت کے لیے موجودہ بھرتی اسکیم 1947 کے سمجھوتے کے التزامات کے مطابق نہیں ہے۔ نیپال میں چار سال کے بعد سبکدوش ہونے والے گورکھا جوانوں کے مستقبل کے بارے میں تحفظات ہیں اور سماج میں ان،  آؤٹ آف جاب ینگ مین کا اثر، یہ سبھی 20 سال کے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

پھرDFRAC ڈیسک نے کچھ مخصوص کی ورڈ کا استعمال کرکے مزید تحقیق و تفحیص کی تو DFRAC  کو کچھ دیگر رپورٹس بھی ملی، جن میں بتایا گیا ہے کہ کاٹھمانڈو میں چین کی ایمبیسی نے چائنا اسٹڈی سینٹر این جی او سے کہا کہ وہ  یہ معلوم کرے کہ نیپال کے افراد ، انڈین آرمی میں شامل کیوں ہو رہے ہیں۔اس رپورٹ میں کہیں بھی پھر سے گورکھاؤں کے چینی  فوج میں شامل ہونے کا کوئی ذکر  نہیں  ہے،  اگر ایسا ہوتا تو مین اسٹریم میڈیا نے اس کی اطلاع ضرور دی ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق نیپال حکومت آخری فیصلہ نہیں دے رہی ہے کہ گورکھا ریجیمنٹ اگنی ویر یوجنا میں شامل ہوگی یا نہیں، وہیں گورکھاؤں کے چینی فوج میں شامل ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

نتیجہ

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے عیاں ہے کہ سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے گورکھا ریجیمنٹ کے چینی فوج میں شامل ہونے کا دعویٰ  فرضی ہے، کیونکہ گورکھا کے چینی فوج میں شامل ہونے کوئی کا ذکر ہی نہیں۔

دعویٰ : چینی فوج میں شامل ہوئی گورکھا ریجیمنٹ

دعویٰ کنندہ: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیکٹ: فیکٹ