Digital Forensic, Research and Analytics Center

اتوار, نومبر 27, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

آسام میں ہندوؤں کی 73 فیصد جائیداد روہنگیاؤں نے ہڑپ لی؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

میانمار میں ہوئے ظلم و تشدد کے بعد بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں سے متعلق آسام حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے بہت سے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیج دیا ہے۔ وہیں، روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے ملک کی سیاست میں کافی تنازعہ بھی ہوتا آیا ہے۔ حال ہی میں روہنگیا مسلمانوں کو مکانات الاٹ کرنے سے متعلق مرکزی وزیر کے ٹویٹ کے بعد وزارت داخلہ کو صفائی دینا پڑی تھی۔ 

اس درمیان سوشل میڈیا سائٹس پر ایک گرافیکل تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں لکھا ہے،’ہندو اکثریتی ریاست آسام میں لاکھوں کی تعداد میں حملہ آور بنگلہ دیشی مسلمان در اندازوں نے مقامی مسلمانوں سے مل کر ہندوؤں کے 73 فیصد اثاثے ہڑپ لیے ہیں، ہندوؤں کو  اب پناہ گزیں کیمپوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔ یہی درانداز، دنگے-فسادات کرواتے ہیں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دیتے ہیں۔ 40 لاکھ غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، کیا حکومت انھیں جلد از جلد باہر کرےگی؟‘

وائرل گرافیکل امیج

یہی تصویر اس دعوے کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے کہ لاکھوں حملہ آور بنگلہ دیشی مسلمانوں نے ریاست آسام میں ہندوؤں کی 73 فیصد جائیداد ہتھیا لی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 40 لاکھ روہنگیا غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔

ٹویٹر پر ایک یوزر نے لکھا،’ روہنگیا کے سبب بھارت میں آبادی تناسب تبدیل ہو سکتا ہے۔ بھارت کو روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میں کیوں اجازت دینی چاہیے؟ میرے ٹیکس کا پیسہ ان کے کیمپوں میں کیوں لگایا جائے؟ روہنگیا واپس جاؤ! #روہنگیا_بھگاؤ_دیش_بچاؤ‘۔

فیکٹ چیک:

DFRAC ڈیسک نے وائرل دعوے کی چانچ۔پڑتال کے لیے مخصوص کی-ورڈ اور کی-فریز کو سرچ کیا۔ ہمیں اس تناظر میں کوئی ایسی معلومات نہیں ملی جہاں یہ لکھا ہو کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں نے آسام میں ہندوؤں کے 73 فیصد اثاثے ہتھیا لیے ہوں، جہاں یہ لکھا ہو کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں نے آسام میں ہندوؤں کی 73 فیصد جائداد ہڑپ لی ہے، جس کے بعد ہندو اب پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس معاملے کو ’مین-اسٹریم میڈیا‘ نے کور کیا ہوتا۔ 

جب ہم نے دوسرے دعوے کو پرکھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ آسام میں تقریباً 40 لاکھ غیر قانونی مسلم مہاجرین رہ رہے ہیں، DFRAC نے اس 40 لاکھ نمبر کے دعوے کو کو گمراہ کن پایا کیونکہ یہ تعداد 40 لاکھ نہیں بلکہ 40 ہزار ہے۔ اس تعداد میں حیدرآباد، جموں، نوح اور دہلی میں رہنے والے روہنگیا بھی شامل ہیں۔

Rohingya Muslims in India

نتیجہ:

وائرل تصویر میں جو دونوں دعوے کیے جا رہے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ پہلا دعویٰ مکمل طور پر فرضی ہے جبکہ دوسرے دعوے میں 40 ہزار کو 40 لاکھ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔