سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں ایک گروہ کو چند نوجوانوں سے پوچھ گچھ اور بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو اتر پردیش کے کنوج کا بتا رہے ہیں، ساتھ ہی اس ویڈیو کو لو جہاد کا رنگ دیتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ تین مسلم نوجوان دو نابالغ ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر وہاں لائے تھے۔
اس ویڈیو کو انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے کٹر ہندو مندسور نامی صارف نے لکھا، ’’آج کنوج کے مکرند نگر واقع رائل پیزا میں لو جہاد کا ایک کیس پکڑا گیا، جس میں مسلم برادری کے تین نوجوان دو ہندو نابالغ بیٹیوں کو بہلا پھسلا کر لے آئے تھے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی ہندو بھائی وہاں پہنچے اور ان سے نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام پنٹو، راجیش اور دیپک بتایا۔ سختی سے پوچھنے پر صحیح نام بتایا، پھر ہم بھائیوں نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایک ایک نوجوان سات سات آئی ڈیز چلا رہا تھا، جن میں ہندو لڑکیوں کے ساتھ کافی چیٹس موجود تھیں۔‘‘

وہیں ایک دوسرے صارف نے لکھا، ’’کنوج میں تین مسلم لڑکوں کے ساتھ دو ہندو لڑکیاں پکڑی گئی ہیں۔ لڑکوں کی تو خاطر داری ہو رہی ہے، ٹھیک ہے، لیکن لڑکیاں بھی کم قصوروار نہیں ہیں۔ ان کے والدین یا محلے والوں کو بلا کر ان کی حرکتیں بے نقاب کی جائیں تاکہ یہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔‘‘

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ کنوج پولیس کے مطابق نوجوانوں اور لڑکیوں کی ملاقات اتفاقیہ تھی اور کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا غیر قانونی عمل سے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ ہم نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے کنوج پولیس کے آفیشل ایکس ہینڈل کنوج پولیس کو دیکھا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ایک صارف نے یہ وائرل ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس کے جواب میں کنوج پولیس نے واقعے کے بارے میں معلومات دی تھیں۔
کنوج پولیس کے مطابق، ’’اس معاملے میں آگاہ کیا جاتا ہے کہ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ متعلقہ نوجوان اور لڑکیاں آزادانہ طور پر مختلف اوقات میں رائل پیزا، مکرند نگر آئے تھے۔ پوچھ گچھ اور تصدیق کے دوران کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا غیر قانونی عمل سے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ جانچ میں یہ بھی معلوم ہوا کہ متعلقہ نوجوان اور لڑکیاں پہلے ایک ساتھ تعلیم حاصل کر چکے تھے اور اتفاقیہ ملاقات ہونے پر آپس میں بات چیت ہوئی تھی۔ چند افراد نے غلط فہمی کی بنا پر ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ اس معاملے میں کسی بھی فریق کی جانب سے کسی قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔‘‘
نتیجہ:
وائرل ویڈیو کے حوالے سے کنوج پولیس کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس واقعے میں لو جہاد کا کوئی زاویہ نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق نوجوان اور لڑکیاں آزادانہ طور پر مختلف اوقات میں رائل پیزا، مکرند نگر آئے تھے۔ پوچھ گچھ اور تصدیق کے دوران کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا غیر قانونی عمل سے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ اس لیے صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

