Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

کشمیریوں کو آزادی کے بعد سےاب تک ملتی تھی مفت بجلی ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

کشمیر کے حوالے سے بہت سے سوشل میڈیا یوزرس  پوسٹ شیئر کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کشمیریوں کو آزادی کے بعد سے اب تک مفت بجلی ملتی تھی، جسے حکومت نے بند کر دیا ہے۔ اب کشمیریوں کو بجلی کا بل ادا کرنا پڑے گا۔ یوزرس، یہ دعویٰ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ جنرل (ایل جی) منوج سنہا کے ایک بیان کا حوالہ دے کر کر رہے ہیں۔

سبھاپتی مشرا # ہر_کَن_ہندو (@Sabhapa30724463) یوزر نے لکھا،’ Big breaking news جموں و کشمیر کے لیفٹینینٹ جنرل (ایل جی) منوج سنہا نے کہا ہے کہ اب سے کشمیریوں کو مفت بجلی نہیں ملے گی۔ جو جتنا خرچ کرے گا، اتناپیسہ دینا پڑے گا۔ آزادی سے اب تک وادی کشمیر میں بجلی، مفت میں ملتی تھی‘۔

Tweet Screenshot

ساتھ ہی ’کاشی کا پنڈت‘ نامی یوزر نے لکھا ،’کیا آپ  کو پتہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی کشمیریوں کو حکومت ہند مفت بجلی دے رہی تھی۔ کانگریس اور نہرو نے انھیں یہ سہولت دے رکھی تھی… جس کی وصولی آپ کے، ہمارے خون پسینے سے کی کمائی سے ہوتی تھی‘۔

Tweet Screenshot

وہیں ،اس دعوے کے ساتھ  کئی دیگر یوزرس نے بھی شیئر کیا ہے۔

Tweet Screenshot

فیکٹ چیک:

وائرل ہورہا  دعویٰ، ایل جی منوج سنہا کے بیان کے حوالے سے کیا جا رہا ہے۔  تو ہم نے سب سے پہلے گوگل پر منوج سنہا کے بارے میں سرچ کیا۔ ہمیں kimskashmir.com پر  ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے، ’ Pay Money To Get Power, No More Free Electricity Now: J&K LG Manoj Sinha Tells People  ‘جس کا اردو  ترجمہ،’بجلی پانے کے لیے پیسے دیں، اب مفت بجلی نہیں: جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے لوگوں سے کہا‘ ہے۔

اس رپورٹ میں  تفصیل سے مکمل معلومات دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں منوج سنہا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’مرکز ہمیں مفت بجلی نہیں دیتا ہے۔ پچھلی حکومتوں پر بجلی کا بہت بڑا قرض ہے۔ ہم نے تقسیم کا نظام بہتر کیا ہے اور عوام کو بہتر بجلی مہیا کروائیں گے۔ لیکن بجلی اب  مفت نہیں ہوگی‘۔

وہیں منوج سنہا نے بتایا،’ گذشتہ حکومتوں پر 11,000 کروڑ روپے کا بجلی کا بجلی کا بھاری قرض  بچا ہے۔

بعدازاں  ہم نے آزادی کے بعد سے کشمیریوں کو مفت بجلی کے بارے میں گوگل پر سرچ کیا۔ ہمیں ’دی ٹریبیون‘ میں ایک مضمون ملا،جس کے مطابق’جموں اور کشمیر دونوں خطوں کے بجلی کے تقسیم کاروں نے اپنے نقصانات کو  کوَر کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی تجویز رکھی ہے۔ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) 100 یونٹس تک 1.69 روپے فی یونٹ، 101 سے 200 یونٹس کے لیے 2.20 روپے، 201 سے 400 یونٹس کے لیے 3.30 روپے اور 400 سے زائد یونٹس کے لیے 3.52 روپے فی یونٹ چارج کرتی ہے۔ جے پی ڈی سی ایل نے اب 200 یونٹس تک 2 روپے فی یونٹ، 201 سے 400 یونٹس کے لیے 4 روپے فی یونٹ اور 400 سے زائد یونٹس کے لیے 5 روپے فی یونٹ چارج کرنے کی تجویز رکھی ہے۔

دی ٹریبیون کی اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر میں بجلی کمپنیوں کی جانب سے نقصان کو کم کرنے کے لیے بجلی کے بل میں اضافہ کیا ہے۔

منوج سنہا کے بیان پر کنفیوژن:

ویب پورٹلز اور اخبارات میں، ’ Pay Money To Get Power, No More Free Electricity Now‘ والے بیان کی بابت زیادہ کنفیوژن (تذبذب) کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ منوج سنہا کا اسی  بیان کو سوشل میڈیا پر  گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل کیا جانے لگا۔ اس میں کچھ لوگوں نے یہ بھی جوڑ دیا کہ آزادی کے بعد سے اب تک کشمیریوں کو مفت بجلی ملتی تھی جو کہ غلط ہے۔

نتیجہ:

ہمارے فیکٹ چیک سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیریوں کو آزادی  سے اب تک مفت بجلی نہیں ملتی تھی، لہٰذا سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے کیا جا رہا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

دعویٰ: کشمیریوں کو آزادی کے بعد سے ملتی تھی مفت بجلی

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: گمراہ کن

(آپ DFRAC# کو ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر فالو کر سکتے ہیں۔)