Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

فیکٹ چیک:’ نیوز نیشن‘کے اینکر نے کیا مسلم خواتین کے بارے میں راشٹرگان کی توہین  کرنے کا گمراہ کن دعویٰ

ٹویٹر پر شبھم ترپاٹھی نام کے ایک یوزر ہیں ۔ ان کے بایو کے مطابق وہ نیوز نیشن کے اینکر اور پروڈیوسر ہیں۔ انہوں نے ایک تصویر ٹویٹ کرکے دعویٰ کیا کہ جب راشٹر گان چل رہا تھا، اس دوران برقع پوش خواتین کھڑی نہیں ہوئیں۔

انہوں نے ٹویٹر پر لکھا،’جب ’راشٹر گان‘  چل رہا تھا تو  اس دوران وہ کھڑی نہیں ہوئیں… پھر کہتے ہیں ’سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں ‘ کھاؤ یہاں کا  اور گاؤ کہیں اور کا‘۔

Tweet Screenshot

فیکٹ چیک:

اس تصویر کی جانچ پڑتال کے لیے، ہم نے گوگل پر سمپل سرچ کیا ۔ اس دوران ہمیں ’جَن ستّہ‘ کی ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ میں بھی یہی تصویر استعمال کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مظفر نگر میں میونسپل کارپوریشن کی میٹنگ کا ہے۔ رپورٹ کو ہیڈلائن،’مظفر نگر بورڈ میٹنگ میں وندے ماترم کے دوران کرسی پر بیٹھی  رہیں مسلم خواتین کونسلر، مچ گیا بوال‘دی گئی ہے۔

اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم خواتین راشٹرگان نہیں بلکہ  وندے ماترم کے دوران کھڑی نہیں ہوئی تھیں ۔ وندے ماترم پر کھڑا ہونا  کیا ضروری ہے؟ اس تناظر میں، جب ہم نے معلومات یکجا کرنا چاہی ، تو ہمیں 2016 میں دینک جاگرن کی شائع کردہ ایک رپورٹ ہاتھ لگی۔ اس رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر کرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ وندے ماترم گانے کے لیے کوئی ضابطہ طے نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ستائیس ماہ جیل کی قید کے بعد اعظم خان ہو گئے رام-کرشن کے بھکت؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

نتیجہ:

شبھم ترپاٹھی کے دعوے کا فیکٹ چیک کرنے کے بعد ثابت ہو تاہے کہ مسلم خواتین وندے ماترم کے دوران کھڑی نہیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے راشٹر گان کی کسی طور کوئی توہین نہیں کی ہے، لہٰذا نیوز نیشن کے اینکر  شبھم ترپاٹھی کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

دعویٰ:راشٹر گان کے دوران کھڑی نہیں ہوئیں مسلم خواتین

دعویٰ کنندہ: نیوز نیشن کے اینکر،شبھم ترپاٹھی

فیکٹ چیک: گمراہ کن

(آپ DFRAC# کو ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر فالو کر سکتے ہیں۔)