شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی گاؤ رکشا کے لیے ’’دھرم یدھ یاترا‘‘ نکال رہے ہیں۔ اس یاترا کے ذریعے وہ اتر پردیش کے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے گاؤ رکشا کی اپیل کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ گائے کو ’’راشٹر ماتا‘‘ کا درجہ دیا جائے۔ اس یاترا کے دوران شنکراچاریہ اویمکتیشورانند اتر پردیش کی یوگی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسی دوران ان کے ایک بیان پر مبنی ایک پوسٹ کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2027 میں دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بنیں گے۔ وائرل پوسٹ کارڈ میں ان سے منسوب بیان درج ہے:’’آنے والے 2027 میں اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ پھر سے یوگی آدتیہ ناتھ ہی ہوں گے، انہیں دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا، یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘اس پوسٹ کارڈ کو شیئر کرتے ہوئے انوج شکلا نامی صارف نے لکھا:
’’ہے پربھو ہری رام، کرشن، جگن ناتھ، پریمانند! یہ کیا ہوا، گمچھا کھل گیا۔‘‘

اسی طرح لنکڈ اِن پر گوپال پانڈے نامی صارف نے وائرل پوسٹ کارڈ شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’اب انہوں نے بھی پورے اتر پردیش کا سروے کر لیا، تب جا کر انہیں یہ معلوم ہوا۔‘‘

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل پوسٹ کارڈ کی جانچ میں پایا کہ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ انہوں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ ’’2027 میں یوگی آدتیہ ناتھ دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بنیں گے۔‘‘ مزید یہ کہ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند کے میڈیا انچارج سنجے پانڈے نے بھی ڈی ایف آر اے سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس دعوے کو جعلی خبر قرار دیا۔
ہم نے وائرل بیان کی جانچ کے لیے گوگل پر مختلف کلیدی الفاظ کے ذریعے تلاش کی، لیکن ہمیں کسی بھی معتبر میڈیا ادارے کی ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی، جس میں شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے 2027 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بننے کی بات کہی ہو۔
البتہ ہمیں حالیہ دنوں کی کئی خبریں ملیں، جن میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کی ہے۔ ہمیں حالیہ عرصے کی ای ٹی وی بھارت، روزنامہ بھاسکر اور ہندوستان کی میڈیا رپورٹس بھی ملیں۔
ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے:
’’شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے ایک بار پھر یوگی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ اس بار انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر گاؤ ماتا کو مناسب احترام نہیں ملا تو آئندہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘‘جبکہ روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شراوستی کے اِکونا پہنچے شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے گاؤ رکشا اور سناتن دھرم کا پیغام دیا۔
اس کے علاوہ ہندوستان اخبار کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے:’’جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے گاؤ ماتا کے درجے کے معاملے پر اتر پردیش حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سناتن سماج گائے کو ماں مانتا ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں آج بھی اسے جانوروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پالیسی واضح کرے۔‘‘

اس معاملے میں مزید معلومات کے لیے ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے شنکراچاریہ اویمکتیشورانند کے میڈیا انچارج سنجے پانڈے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وائرل خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا:’’یہ مکمل طور پر جعلی خبر ہے اور مہاراج جی نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔‘‘
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا جانے والا دعویٰ جعلی ہے۔ شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے 2027 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بننے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔ مزید برآں، ان کے میڈیا انچارج سنجے پانڈے نے بھی اس دعوے کو جعلی خبر قرار دیا ہے۔
