Prayagraj fake claim

فیکٹ چیک: پریاگ راج میں مسلم خاتون کے ساتھ مارپیٹ کے معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ اینگل نہیں ہے

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیچ سڑک پر تمچہ لیے ایک شخص سے برقعہ پہنی مسلم خاتون بھڑ جاتی ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ملزم کو ہندو برادری کا بتا رہے ہیں۔ فیس بک پر پوسٹ کیے گئے اسی ویڈیو پر ٹیکسٹ لکھا ہے، ‘مجرم ہندو ہے اس لیے بابا کا بلڈوزر نہیں چلے گا۔ بلڈوزر کے لیے ملزم مسلمان چاہیے’

فیس بک پوسٹ پر کیپشن لکھا گیا ہے، ‘پریاگ راج میں مسلم خاتون پر دبنگوں نے مبینہ طور پر کھلے عام تمچہ لہراتے ہوئے فائرنگ کر دی.. اور وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبہ جرائم سے پاک ہو گیا ہے۔’

Link

اس ویڈیو کو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے ایک صارف نے انگریزی میں کیپشن لکھا، جس کا ترجمہ ہے، ‘پریاگ راج میں دن دہاڑے ہندو غنڈوں نے ایک مسلم خاتون کو دھمکایا اور سڑک پر گھسیٹا۔’

Link

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ اس معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ اینگل نہیں ہے اور ملزم شخص ہندو بھی نہیں ہے۔ دراصل یہ پورا معاملہ زمین کے تنازع سے جڑا ہوا ہے اور اس میں دونوں فریق ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ پریاگ راج کے جھونسی تھانہ علاقے کے ای سی پور چوراہے کے قریب پیش آیا تھا۔ جانچ کے دوران ہمیں اس واقعے کے حوالے سے دینک بھاسکر کی رپورٹ ملی۔ دینک بھاسکر کی اس رپورٹ میں وائرل ویڈیو کو دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ‘ای سی پور چوراہے کے قریب زمین کے سودے کو لے کر دو فریقوں میں کہا سنی ہوئی۔ تنازع بڑھنے پر مارپیٹ شروع ہو گئی اور اسی دوران ایک نوجوان نے تمچے سے فائرنگ کر دی۔ گولی ایک نوجوان کی ران میں لگی، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ زمین کے سودے میں ایڈوانس رقم دینے کے باوجود رجسٹری نہیں ہو سکی تھی۔ اسی بات کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ پیر کے دن پیسے مانگنے پر یہ تنازع پُرتشدد ہو گیا۔’

اسی طرح ہمیں اس واقعے کے حوالے سے پریاگ راج نیوز کی ایک رپورٹ بھی ملی۔ اس رپورٹ میں واقعے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ملزمان کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ملزمان کے نام ‘1. سونو عرف شمس الدین احمد (عمر 32 سال)، ولد مرحوم فرمود احمد عرف بچے، ساکن: ای سی پور ملاوا خرد، تھانہ جھونسی، ضلع پریاگ راج اور 2. انضمام (عمر 26 سال)، ولد کمرالحسن عرف گڈو، ساکن: 123 سادی آباد بڑا بگھاڑا، تھانہ کرنل گنج، ضلع پریاگ راج’ بتائے گئے ہیں۔

اس معاملے پر مزید معلومات کے لیے ہماری ٹیم نے جھونسی تھانے سے رابطہ کیا۔ پولیس نے ہمیں بتایا کہ اس معاملے میں دونوں فریق مسلمان ہی ہیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وائرل ویڈیو میں کوئی فرقہ وارانہ اینگل نہیں ہے اور ملزم نوجوان ہندو نہیں ہیں۔ یہ ویڈیو زمین کے تنازع کا ہے اور دونوں فریق ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔