Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

فیکٹ چیک:مسلمانوں کے سناتن دھرم میں واپسی کے دعوے کے ساتھ وائرل تصویرنکلی جھوٹی

سوشل میڈیا پر ایک تصویر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ اس تصویر کو شیئر کرکے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وسیم رضوی (جتیندر تیاگی) کے سناتن دھرم میں واپسی کے بعدمسلم اپنی مرضی سے گھر واپسی کر رہے ہیں بہ الفاظ دیگر مرتد ہو رہے ہیں۔

ایک یوزر نے لکھا کہ ’یوپی میں 34 مسلم خاندانوں نے کی ہندو دھرم میں واپسی۔ جے شری رام، سناتن ہی ستیہ ہے‘۔

وہیں ایک دیگر یوزر نے دعویٰ کیا ،’ وسیم رضوی جی کے سناتن دھرم میں گھرواپسی کے بعد مسلمانوں کا ڈر کھل رہا ہے اور وہ اپنی مرضی سے گھر واپسی کر رہے ہیں۔ یوپی میں 34 مسلم خاندانوں نے کی سناتن دھر میں واپسی۔ جے شری رام‘۔

اسی طرح ملتے جلتے دعوے کے ساتھ دیگر بہت سے یوزرس نے بھی یہی تصویر شیئر کی ہے۔

فیکٹ چیک:

وائرل  تصویر کی جانچ-پڑتال کرنےپر DFRAC کی ٹیم نے پایا کہ کہ یہ تصویر 18 ستمبر 2016 کو لی گئی تھی۔ اری حملے کے بعد، مسلم برادری کے مقامی لوگ پاکستان کے خلاف احتجاج کے لیے شاہی جامع مسجد میں جمع ہوئے تھے۔ ہمیں اس سلسلے میں امر اُجالا کی شائع کردہ رپورٹ بھی ملی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران مسجد کے امام محمد عمر قادری اور مہامنڈلیشور نیول گیری نے بھارت ماتا کی جے، ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔

نتیجہ:

DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ تصویر جس دعوے کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے، وہ مکمل فرضی اور جھوٹ ہے۔

دعویٰ: مسلمان اپنی مرضی سے سناتن دھرم اپنا کر ’گھرواپسی ‘ کر رہے ہیں

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: فیک، گمراہ کن

Previous article
Next article

مسلم محلے میں ہندو خاندان ہراساں، دباؤ
میں بی ایم سی نے مکان خالی کروایا؟