Assam mosque fake

فیکٹ چیک: منی پور میں ہتھیار برآمد ہونے کے ویڈیو کو آسام کی مسجد کا بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی برآمدگی کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کو پوسٹ کرنے والے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ہتھیار آسام کی ایک مسجد سے برآمد ہوئے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے وویک مشرا نامی صارف نے لکھا، ‘آسام میں مسجد سے ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد! اے کے-47، ہینڈ گرینیڈ اور خطرناک ہتھیار ملنے سے علاقے میں ہلچل مچ گئی……. جھونپڑی والوں کا مذہب کی آڑ میں آخر یہ کون سا کھیل چل رہا تھا؟ عبادت کی جگہ کو ہتھیاروں کا اڈہ بنانے والوں پر اب سخت کارروائی ضروری ہے۔ دیش پہلے ہے… دہشت اور شدت پسندی کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں!’

Link

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے “ہندو راشٹر (ہندوستان)” نامی صارف نے لکھا، ‘آسام کی ایک مسجد سے ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد۔ اے کے-47 سمیت ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد ہوئے ہیں….’

Link

وہیں اس ویڈیو کو آسام کی ایک مسجد سے ہتھیاروں کی برآمدگی کا بتا کر کئی دیگر صارفین نے بھی شیئر کیا ہے، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ ہتھیاروں کی برآمدگی کا یہ ویڈیو کسی مسجد کا نہیں بلکہ منی پور کا ہے۔ پولیس کے مطابق لامشنگ علاقے کے لامدینگ میں یو این ایل ایف (پی) کے ایک غیر مجاز کیمپ سے یہ ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ منی پور پولیس نے اس سلسلے میں سرکاری بیان بھی جاری کیا ہے۔

جانچ کے دوران ہمیں منی پور پولیس کے سرکاری ایکس ہینڈل سے ایک پوسٹ ملا، جس میں وائرل ویڈیو کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے بتایا گیا: ‘لامشنگ علاقے میں لوٹے گئے ہتھیار اور گولہ بارود فروخت کیے جانے کے بارے میں ملی ایک معتبر اطلاع کی بنیاد پر، منی پور پولیس نے 20/05/2026 کو لامشنگ-پی ایس کے تحت لامدینگ میں ایک خصوصی آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران یو این ایل ایف (پی) کے دو سرگرم ارکان گرفتار کیے گئے، جن کے نام ہیں: (i) ہیشنام تھامس سنگھ (29) اور (ii) ارمبام ٹام ٹام سنگھ (29)۔ ان کے قبضے سے ایک انساس ایل ایم جی، تین انساس ایل ایم جی میگزین اور چودہ زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ جب گرفتاری کی کارروائی جاری تھی، تبھی ان ارکان کے ساتھیوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے بھی فائرنگ کی اور دونوں جانب کچھ دیر تک گولی باری ہوتی رہی۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز پر فائرنگ میں شامل دو مزید ارکان کو گرفتار کیا گیا، جن کے نام ننگتھوجم راکیش سنگھ اور چنگاخام مہیش سنگھ ہیں۔ گرفتار شدگان نے ابتدائی پوچھ گچھ میں بتایا کہ وہ یو این ایل ایف (پی) کے خود ساختہ لانس کارپورل نورم بجوئے عرف ماچا کے حکم پر یہ ہتھیار فروخت کرنے آئے تھے۔ انہوں نے پہلے بھی لوٹے گئے ہتھیار اور گولہ بارود فروخت کرنے میں اپنی شمولیت قبول کی۔’

منی پور پولیس نے مزید بتایا: ‘اس کے بعد مزید کارروائی کے تحت منی پور پولیس، آسام رائفلز اور سی آر پی ایف کی مشترکہ سیکورٹی فورسز نے لامدینگ میں واقع یو این ایل ایف (پی) کے ایک غیر مجاز کیمپ میں گھیراؤ اور تلاشی آپریشن چلایا۔ اس آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی سامان برآمد کیا، جن میں اے کے سیریز کی رائفلیں، ایم سیریز کی رائفلیں، پستول اور دیگر آتشیں اسلحہ سمیت کل 29 ہتھیار شامل تھے۔ اس کے علاوہ 21/05/2026 کو مشترکہ سیکورٹی فورسز نے مزید 38 ہتھیار اور بھاری جنگی سامان برآمد کیا، جن میں اے کے سیریز کی رائفلیں، ایم سیریز کی رائفلیں، سنائپر رائفل، کاربائن، شاٹ گن، مارٹر، آر پی جی-7 لانچر، اینٹی ڈرون جیمر اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد شامل تھا۔’

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وائرل دعویٰ غلط ہے۔ ہتھیاروں کی برآمدگی کا ویڈیو آسام کی کسی مسجد کا نہیں بلکہ منی پور کا ہے۔ پولیس کے مطابق لامشنگ علاقے کے لامدینگ میں یو این ایل ایف (پی) کے ایک غیر مجاز کیمپ سے یہ ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔