Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

فیکٹ چیک: راجستھان میں لمپی وائرس سے مرنے والی گایوں کے بارے میں نیوز اینکر نے پھیلائی گمراہ کن خبر

سوشل میڈیا پر شُبھانکر مشرا نامی ایک ویریفائیڈ یوزر نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک بڑے سے میدان میں سینکڑوں مردہ مویشیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے شبُھانکر مشرا نے دعویٰ کیا کہ راجستھان کے ریگستان، لاشوں کے میدان بن چکے ہیں۔

شُبھانکر مشرا نے ٹویٹ کیا،’ لاشوں کے میدان بنے راجستھان کے ریگستان، لمپی وائرس سے تقریباً 57000 گایوں کی موت۔ سب سے زیادہ 37 ہزار موتیں راجستھان میں۔ گجرات، راجستھان، پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش میں پھیلا وائرس۔ اب تک 11 لاکھ سے زیادہ مویشی اس سے متاثر۔ حیرانی ہوتی ہے کہ اس خبر پر کہیں شور نہیں‘۔ 

وہیں جیتیش جیٹھانندانی نامی یوزر نے دعویٰ کیا کہ راجستھان میں لمپی وائرس کی وجہ سے 60 ہزار سے زیادہ گائیں مر چکی ہیں۔ جیٹھانندانی نے لکھا،’ #لمپی #وائرس کی وجہ سے #راجستھان میں اب تک 60 #ہزار سے زیادہ #گایوں کی موت ہو چکی ہے۔ لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں، گائے کے نام پر ووٹ مانگنے والوں سے سوال؟گائے کے نام پر ہنگامہ کرنے والوں سے سوال؟ سوال اس پارٹی سے جس کا انتخابی نشان کبھی#گائے-بچھڑا تھا؟

فیکٹ چیک

وائرل ویڈیو کا فیکٹ چیک کرنے کے لیے، ہم نے ویڈیو کے کچھ فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ یہ ویڈیو بریکنگ نیوز اپڈیٹس نامی یوٹیوب چینل پر ملا۔ اس ویڈیو کو بیکانیر کے جوڑبیڑ کا ڈمپنگ یارڈ کا بتایا گیا ہے۔

دوسری طرف جب ہم نے اسے بیکانیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چیک کیا تو ہمیں بیکانیر کے ڈی ایم کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ایک وضاحت ملی۔ اس میں لکھا ہے،’آج دینک بھاسکر میں پبلش خبر گمراہ کن ہے۔ اس میں اہم حقائق چھپائے گئے ہیں۔ جوڑبیڑ کا یہ علاقہ گذشتہ 50 سالوں سے وولچر کنزرویشن ایریا (گدھوں کے تحفظ کا علاقہ) رہا ہے۔ یہاں مردہ جانوروں کو ڈمپ کرنے کا ٹھیکہ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے سالوں سے دیا جاتا ہے۔ جلد کی بیماری سے مردہ جانوروں کو ضابطے کے مطابق ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔

راجستھان ڈی آئی پی آر فیکٹ چیک نے بھی اس معاملے پر بہت سے فیکٹس دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جوڑبیڑ وولچر کنزرویشن ایریا ہے۔ یہاں گذشتہ 50 سالوں سے کارپوریشن کے ٹھیکیدار کی جانب سے مردہ جانوروں کو کھلے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ میونسپل کمشنر کے مطابق لمپی کے مردہ جانوروں کو سُجاندیسر، کرمیسر اور نال علاقے میں دفنایا جا رہا ہے جبکہ غیر لمپی مردہ جانوروں کو جوڑبیڑ میں ڈالا جا رہا ہے۔

وہیں کئی نیوز ویب سائٹس کے مطابق راجستھان میں لمپی وائرس کی وجہ سے 37 ہزار گائیں مر چکی ہیں۔ بھارت سماچار کے مطابق لمپی وائرس کی وجہ سے 57 ہزار سے زیادہ گائیں مر چکی ہیں۔ راجستھان میں سب سے زیادہ 37 ہزار گایوں کی موت ہوئی ہے۔

نتیجہ:

راجستھان DIPR کی فیکٹ چیک اور باڑمیر کے ڈی ایم کی وضاحت سے یہ صاف ہے کہ سوشل میڈیا یوزرس کے دعوے گمراہ کن ہیں۔ ساتھ ہی راجستھان میں 60 ہزار گایوں کے مرنے کا دعویٰ بھی گمراہ کن ہے۔