Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, ستمبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے سپریا سولے کی فوٹوشاپڈ تصویر وائرل

مہاراشٹر کے بارامتی سے رکن پارلیمنٹ اور نیشنلسٹ کانگریس...

فیکٹ چیک: شنکرچاریہ نے راہل گاندھی کو کہا اَینٹی ہندو، آشیرواد دینے سے بھی کیا انکار؟

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کنیاکماری سے کشمیر تک...

فیکٹ چیک: کیا پی ایف آئی کے کارکنان نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے؟ 

حال ہی میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)...

فیکٹ چیک:ہندوؤں نے گاؤں  میں بسایا تھا ایک مسلم، اب مسلم اکثریتی ہوا  گاؤں ، ہندو کر گئے ہجرت ؟

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس پوسٹ کو 7 تھریڈ بنا کر شیئر کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں یوزرس دعویٰ کر رہے ہیں کہ غازی آباد کے گاؤں کَیلا بھٹہ میں پہلے ہندو برادری کے یادو ذات کے کئی خاندان رہتے تھے۔ بعدمیں ایک مسلمان خاندان وہاں آیا۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی اور ہندو کم ہوتے گئے۔

یوزرس  کا دعویٰ ہے کہ گاؤں میں ایک وقت ایسا آیا جب ہندو خاندانوں کو مسلمان لڑکوں کی ہراسانی اور غنڈہ گردی سے تنگ آکر گاؤں چھوڑنا پڑا۔ اس گاؤں میں ایک بھی ہندو خاندان نہیں رہتا۔ اس پوسٹ کو جم کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس پوسٹ پر کئی اور قسم کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔

فیکٹ چیک:

وائرل ہورہے پوسٹ کی حقیقت جاننے کے لیے، ہم نے غازی آباد کے کَیلا بھٹہ گاؤں کے بارے میں گوگل پر سرچ کیا۔ ہمیں دینِک جاگرن کی جانب سے پبلش ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ کے مطابق مورخ وِگھنیش کمار کی کتاب میں کَیلا بھٹہ کی مٹی سے کناٹ پلیس سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ غازی آباد کا کیلا بھٹہ علاقہ مغلیہ دور میں 1740 میں آباد ہوا تھا۔ اس میں کَیلا گاؤں کی زمین 52500 بیگھہ تھی جو کہ ماڈل ٹاؤن تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ پورے صاحب آباد میں مکن پور اکلوتا گاؤں تھا۔ کیلا گاؤں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں کو روزگار فراہم کرنے اور شہر کو آباد کرنے کے لیے کیلا گاؤں کے باہر بھٹے بنائے گئے تھے‘۔

اس گاؤں کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے،’یہ گاؤں کیلا بھٹہ کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ کیلا بھٹہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں اس بارے میں معلومات   اگلوں (آباو اجداد) سے ملی تھی۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی ترقی کی راہ میں آنے والے بھٹوں کو گرا کر وہاں گھر بنائے گئے۔مرکز مسجد کے پاس والی زمین پر بھٹے بنے تھے،جس کے مالک مرزا صاحب تھے، جنھوں نے بھٹوں کی   نگرانی کے لیے  ایبو خان ​​کی خدمات حاصل کی تھیں۔ بعد میں ایبو خان ​​ہی بھٹوں کے مالک کہلائے تھے۔ آج بھی ایبو خان ​​کے خاندان کے کچھ لوگ غازی آباد میں رہتے ہیں‘۔

وہیں اس تناظر میں مزید معلومات کے لیے ہم نے کیلا بھٹہ گاؤں کے باشندے  ایڈووکیٹ محسن علوی کو فون کیا۔ محسن نے بتایا کہ گاؤں میں ہندو خاندان اب بھی رہتے ہیں، جن میں یادو اور دلت سمیت کئی ذاتیں آباد ہیں، لہٰذا سوشل میڈیا پر جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ دوسری جانب کیلا بھٹہ کے سابق کونسلر فاروق سیٹھی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے، یہاں شروع سے ہی مسلم کمیونٹی کے لوگ رہ رہے ہیں اوررہی بات یادو خاندانوں کی تو ابھی بھی کئی یادو خاندان رہتے ہیں۔

نتیجہ:

کیلا بھٹہ گاؤں کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے کیونکہ ابھی بھی   گاؤں میں ہندو خاندان رہتے ہیں اور جب یہ گاؤں مغلوں نے آباد کیا تھا تب بھی مسلمان خاندان تھے۔

دعویٰ:  ہندوؤں نے گاؤں میں ایک مسلم خاندان بسایا، آج مسلم اکثریتی ہے  گاؤں ، ہندو کر گئے ہجرت

دعویٰ کنندگان:  سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک : فیک