Surya murder fake

فیکٹ چیک: مندسور میں قتل کے ملزمان کی پریڈ کا ویڈیو سوریہ ہتیاکانڈ سے جوڑ کر وائرل

Fact Check Featured Misleading

اتر پردیش کے غازی آباد کے کھوڑا علاقے میں عید کے دن سوریہ چوہان نامی نوجوان کو چاقوؤں سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے مرکزی ملزم اسد کو پولیس نے انکاؤنٹر میں مار گرایا، جبکہ کئی دیگر ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں دو ملزمان کو پولیس کی حراست میں لنگڑاتے ہوئے چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ سوریہ کے قتل کے ملزمان کو پولیس نے لنگڑاتے ہوئے پریڈ نکال کر جیل بھیجا ہے۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ارون باجپئی راجن نامی ایک صارف نے لکھا، ’’غازی آباد سوریہ مرڈر: مرکزی ملزم اسد کا انکاؤنٹر کرنے اور باقی ملزمان کو لنگڑا بنا کر سڑک پر شاندار پریڈ نکال کر جیل بھیجنے کے بعد، سوریہ چوہان کی ماں کو یوگی سرکار نے مدد دی۔۔۔ ایک مکان، پانچ لاکھ روپے اور سرکاری نوکری۔‘‘

Link

ایک اور صارف نے بھی اسی کیپشن کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کیا ہے۔

Link

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ یہ ویڈیو سوریہ چوہان کے قتل کے ملزمان کی پریڈ نکالے جانے کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں اپریل کے ایک واقعے کا ہے۔

آٹھ اور نو اپریل کو ہمیں یہ وائرل ویڈیو کئی سوشل میڈیا ہینڈلز پر پوسٹ کیا ہوا ملا۔ ’’آرمبھ نیوز آفیشل‘‘ نامی صارف نے نو اپریل کو یہ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے معلومات دی کہ مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں انیس سالہ ارون کے قتل کے معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے فرار چل رہے ملزمان روہت چوہان اور یوراج مالی کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور صارف نے بھی نو اپریل کو اس ویڈیو کو مندسور کے واقعے کا بتاتے ہوئے شیئر کیا ہے۔

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے گوگل پر چند متعلقہ الفاظ تلاش کیے۔ ہمیں امر اجالا اور دینک بھاسکر کی میڈیا رپورٹس ملیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ:

’’مندسور کے نرسنگھ پورہ علاقے میں بے خوف بدمعاشوں نے 19 سالہ نوجوان پر سرِ راہ چاقوؤں سے پے در پے حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا وحشیانہ تھا کہ نوجوان کی آنتیں تک جسم سے باہر آ گئی تھیں۔ علاج کے دوران نوجوان کی موت ہو گئی۔‘‘

اس کے علاوہ، ہمیں اس واقعے کے حوالے سے مندسور پولیس کے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل پر ایک پوسٹ بھی ملی۔ اس کے ساتھ جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا:

’’05 اپریل 2026 کی رات تقریباً 09:30 بجے ملزمان یوراج مالی اور روہت چوہان نے مقتول ارون ورما، ساکن نرسنگھ پورہ، مندسور کو پرانے گالی گلوچ کے تنازعے کے سلسلے میں بات چیت کے لیے گاندھی چوراہے پر بلایا تھا۔ گفتگو کے دوران ملزمان نے چاقو زنی کی واردات انجام دی اور ارون ورما کو قتل کرنے کی نیت سے چاقو مار کر شدید زخمی کر دیا، جس کی بعد میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ واقعے کے بعد دونوں ملزمان فرار تھے۔ ان کی فوری گرفتاری کے لیے پولیس سپرنٹنڈنٹ مندسور کی ہدایت پر الگ الگ پولیس ٹیمیں مندسور اور اطراف کے اضلاع رتلام، علی راج پور اور پیٹلاود روانہ کی گئیں۔ بالآخر دونوں ملزمان، یوراج ولد روی مالی (عمر 19 سال) اور روہت ولد شنکر لال چوہان (عمر 23 سال)، کو کوتوالی پولیس نے گرفتار کر لیا۔‘‘

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ویڈیو غازی آباد کے سوریہ چوہان قتل کیس کے ملزمان کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے مندسور میں اپریل 2026 میں پیش آنے والے قتل کے واقعے کے ملزمان کا ہے۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔