سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو پولینڈ کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برقعہ پہنی دو مسلم خواتین پر سوروں کا ایک جھنڈ حملہ کرتا ہے، جس کے بعد وہ خواتین دوڑتے ہوئے وہاں سے بھاگ جاتی ہیں۔ وائرل ویڈیو پر انگریزی میں لکھا ہے، جس کا اردو ترجمہ ہے: “کل پولینڈ-وارسا میں”۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دلیپ کمار سنگھ نامی صارف نے لکھا:
“آخرکار، لگتا ہے کہ پولینڈ نے جہادیوں سے نمٹنے کا صحیح طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔”

اسی طرح کے کیپشن کے ساتھ دیویندر چندرا نامی صارف نے بھی یہی ویڈیو شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا:
“آخرکار، لگتا ہے کہ پولینڈ کو جہادیوں سے نمٹنے کا صحیح طریقہ مل ہی گیا ہے۔”

اس کے علاوہ بھی کئی دیگر صارفین نے اس ویڈیو کو پولینڈ کا واقعہ بتا کر شیئر کیا، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ یہ پولینڈ کے کسی حقیقی واقعے کا ویڈیو نہیں ہے بلکہ اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے ویڈیو کا بغور جائزہ لیا اور اس میں کئی ایسی بے قاعدگیاں پائیں جو عموماً اے آئی سے تیار شدہ مواد میں دیکھی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، جس خاتون پر سور حملہ کرتا ہے، اس کے ہاتھ میں دو پرس نظر آتے ہیں لیکن اگلے ہی منظر میں ایک بیگ غائب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پہلے منظر میں فٹ پاتھ پر انٹرلاکنگ بلاکس دکھائی دیتے ہیں جبکہ اگلے منظر میں ٹائلوں والا فٹ پاتھ نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ پہلے منظر میں کوئی درخت موجود نہیں ہوتا، لیکن اگلے منظر میں کئی درخت دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے بعد مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کا تجزیہ اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز “ہائو موڈریشن” اور “انڈیٹیکٹیبل اے آئی” کی مدد سے کیا۔ دونوں ٹولز کے تجزیے میں اشارہ ملا کہ وائرل ویڈیو اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔

ویڈیو کی تفصیلی جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ایکسپرٹ کمار انکیت سے رابطہ کیا۔ انکیت کے مطابق یہ ویڈیو اے آئی سے تیار شدہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کئی ایسی بے قاعدگیاں دکھائی دیتی ہیں جو عام طور پر اے آئی ویڈیوز میں دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب سور خواتین پر حملہ کرتے نظر آتے ہیں تو اسی دوران ایک پرس اچانک غائب ہو جاتا ہے اور مناظر غیر فطری انداز میں بار بار بدلتے ہیں۔ اس کے علاوہ منظر بدلنے پر ایک خاتون پہلے کھڑی نظر آتی ہے اور پھر اچانک کیمرے کی طرف دوڑنے لگتی ہے۔ انکیت کے مطابق یہ تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ویڈیو کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ویڈیو پولینڈ کے کسی حقیقی واقعے کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

