ملک کی کئی ریاستوں میں مانسون نے زور پکڑ لیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں بھی حالیہ دنوں میں شدید بارش ہوئی، جس کے باعث کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں ایک تنگ گلی میں موبائل فون استعمال کر رہے ایک نوجوان پر اچانک ایک مانیٹر لِزرڈ حملہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ حملے کے بعد نوجوان گھبرا کر مانیٹر لِزرڈ کو اپنے سے دور پھینک دیتا ہے اور وہاں سے بھاگنے لگتا ہے۔ اس کے بعد مانیٹر لِزرڈ بھی اس کا پیچھا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین اس ویڈیو کو دہلی کی ایک حقیقی واردات بتا کر شیئر کر رہے ہیں۔
شیوانش نامی ایک صارف نے اس ویڈیو کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے لکھا،
’’دہلی کی تنگ گلیوں میں ایک بہت بڑی مانیٹر لِزرڈ دیکھی گئی، جسے دیکھ کر علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ جنگل کا مہمان جب شہر کی گلیوں میں پہنچ جائے تو ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے۔‘‘

وائرل ویڈیو کو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے نارائن سنگھ راوت نامی ایک صارف نے لکھا،
’’حیران کن ویڈیو: دہلی کی تنگ گلیوں میں ایک بہت بڑی مانیٹر لِزرڈ دیکھی گئی، جسے دیکھ کر علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ جنگل کا مہمان جب شہر…‘‘

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر کئی دیگر صارفین نے بھی مانیٹر لِزرڈ کی اس وائرل ویڈیو کو دہلی کی بتاتے ہوئے شیئر کیا ہے، جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ یہ دہلی میں مانیٹر لِزرڈ کے کسی نوجوان پر حملے کے حقیقی واقعے کی ویڈیو نہیں ہے، بلکہ اسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ وائرل ویڈیو کا تجزیہ کرنے کے بعد اے آئی ماہر مینک شرما نے بھی اسے اے آئی جنریٹڈ ویڈیو قرار دیا ہے۔
ہماری ٹیم نے جانچ کے دوران وائرل ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ہم نے دیکھا کہ ویڈیو کے 2 اور 3 سیکنڈ پر نوجوان کے ہاتھ میں موبائل فون موجود ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ مانیٹر لِزرڈ کو اٹھانے کے لیے جھکتا ہے، اچانک اس کے ہاتھ سے موبائل فون غائب ہو جاتا ہے، جبکہ ویڈیو کے اس دورانیے میں موبائل فون کے گرنے کا کوئی منظر دکھائی نہیں دیتا۔

وائرل ویڈیو میں ایک اور ایسی علامت بھی نظر آتی ہے جو عموماً اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں دیکھی جاتی ہے۔ ویڈیو میں واقعات کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جیسے انہیں پہلے سے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ مختلف کیمرا اینگلز سے فلمایا گیا ہو۔ اس میں کلوز اپ اور لانگ شاٹس جیسے سنیما طرز کے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جو اس طرح کے اچانک پیش آنے والے حقیقی واقعات کے لیے غیر فطری محسوس ہوتے ہیں۔
اس کے بعد مزید جانچ کے لیے ہم نے گوگل پر "مانیٹر لِزرڈ دہلی" کے کلیدی الفاظ تلاش کیے اور پھر نیوز سیکشن میں نتائج دیکھے۔ ہمیں حالیہ دنوں میں مانیٹر لِزرڈ کے حوالے سے ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔ گوگل نیوز پر ہمیں نیوز 18 ہندی کی 6 ستمبر 2025 کی ایک خبر ملی، جس میں میور وہار-1 میٹرو اسٹیشن پر افریقہ کی نایاب مانیٹر چھپکلی ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اسی واقعے پر 6 ستمبر کو نو بھارت ٹائمز کی بھی ایک رپورٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ ای ٹی وی بھارت کی 12 ستمبر 2024 اور امر اجالا کی 11 اگست 2018 کی رپورٹس بھی مانیٹر لِزرڈ سے متعلق ملیں۔

مزید یہ کہ ہم نے وائرل ویڈیو کی جانچ اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز ہائیو ماڈریشن، ڈیٹیکٹ ویڈیو ڈاٹ اے آئی اور ڈیپ فیک او میٹر پر کی۔ ہائیو ماڈریشن کی جانچ کے مطابق وائرل ویڈیو 99.2 فیصد اے آئی جنریٹڈ ہے۔ جبکہ ڈیپ فیک او میٹر کے اے وی ایس آر ڈی ڈی ٹول نے اس ویڈیو کو 100 فیصد اے آئی جنریٹڈ کانٹینٹ قرار دیا۔ اس کے علاوہ ڈیٹیکٹ ویڈیو ڈاٹ اے آئی کے نتائج کے مطابق فیس سگنلز 48 فیصد، موشن سگنلز 92 فیصد، ٹیکسچر سگنلز 66 فیصد، سورس سگنلز 78 فیصد اور کمپریشن سگنلز 60 فیصد رہے۔

ویڈیو کے تفصیلی تجزیے کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ماہر مینک شرما سے رابطہ کیا۔ مینک نے بتایا کہ وائرل ویڈیو میں کئی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ویڈیو مختلف کیمرا اینگلز سے شوٹ کی گئی ہے، جبکہ اچانک پیش آنے والے حقیقی واقعات میں اس طرح کے کلوز اپ، لانگ شاٹس اور سنیمائی ٹرانزیشنز عام طور پر نہیں دیکھے جاتے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں مانیٹر لِزرڈ اور نوجوان کی حرکات و سکنات میں بھی کئی غیر فطری چیزیں نظر آتی ہیں۔ دونوں کی رفتار، نقل و حرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کئی مقامات پر حقیقی طبعی رویّے سے مطابقت نہیں رکھتے، جو عموماً اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں دیکھا جاتا ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی مانیٹر لِزرڈ کی ویڈیو دہلی کے کسی حقیقی واقعے کی نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اے آئی جنریٹڈ ہے۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
