Digital Forensic, Research and Analytics Center

جمعہ, جنوری 27, 2023
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: نیپال طیارہ حادثے سے متعلق میڈیا نے شیئر کی گمراہ کن تصویر

نیپال کے دارالحکومت کاٹھمانڈو سے سیاحتی شہر پوکھرا جانے والا Yeti Airlines کا ATR-72 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں چار رکنی عملے سمیت 68 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے کی کئی ویڈیو اور تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔ دریں اثنا، بہت سے میڈیا ہاؤسز نے پرانے ہوائی جہاز کے حادثے کی تصویروں کو Yeti Airlines حادثے سے جوڑ کر شیئر کیا ہے۔

اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے ANI ڈیجیٹل نے کیپشن دیا–’نیپال میں پوکھرا ہوائی اڈے کے رن وے پر مسافر طیارہ، حادثے کا شکار ہو گیا۔ (اردو ترجمہ)

Source: Twitter

اسی طرح کئی دیگر میڈیا ہاؤسز نے بھی اس تصویر کے ساتھ فضائی حادثے پر رپورٹس پبلش کی ہیں۔

Source: Twitter
Source: Twitter

فیکٹ چیک:

وائرل تصویر کا فیکٹ چیک کرنے کے لیے DFRAC ٹیم نے اسے انٹرنیٹ پر ریورس امیج سرچ کیا۔ ہمیں اس طرح کی تصویر خبر رساں ادارہ رائٹرس پر 28 ستمبر 2012 کو اپ لوڈ کردہ ملی۔ اس کا عنوان تھا-’ایک نیپالی پولیس افسر کاٹھمانڈو میں پرائیویٹ فرم سیتا ایئر کے ڈورنیئر طیارہ حادثے کے مقام پر پولیس اہلکاروں کو ہدایت دے رہا ہے۔ (اردو ترجمہ)

Source: reuters

وہیں کئی دیگر سوشل میڈیا ہاؤسز نے بھی 2012 کے نیپال طیارہ حادثے کو کور کیا تھا۔

Source: ibtimes
Source: baaa-acro

DO228-202 طیارہ حادثے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ذیل میں ایک اور کولاج دیا گیا ہے۔

متعدد میڈیا ہاؤسز کی رپورٹس کے مطابق نیپال کے دارالحکومت کاٹھمانڈو کے قریب اس طیارے کے حادثے میں سات برطانوی شہریوں سمیت سبھی 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ طیارہ نجی ایئرلائن سیتا ایئر کی تھی۔ ڈورنیئر طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد نیچے آ گیا جس سے سیتا ایئر کی پرواز کے تمام 19 مسافر ہلاک ہو گئے۔

علاوہ ازیں 2012 سیتا ایئر لائنس اور 2023 ییتی ایئر لائنس کے حادثات کے درمیان فرق جاننے کے لیے ایک کولاج یہاں دیا گیا ہے۔

نتیجہ:

مختلف میڈیا ہاؤسز کی رپورٹس اور DFRAC کے فیکٹ چیک سے یہ واضح ہے کہ کئی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے شیئر کی گئی وائرل تصویر 2012 کی نجی ایئر لائن سیتا حادثے کی ہے۔ یہ حال ہی میں ہوئے Yeti Airlines ایئرلائن کے حادثے کی نہیں ہے، اس لیے میڈیا ہاؤسز کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر گمراہ کن ہے۔