Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

چھتیس گڑھ کے سی ایم نے دیا ہندو دھرم چھوڑنے والے قبائلیوں-عیسائیوں کا کاسٹ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کا حکم؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

بھارت میں ریزرویشن ایک حساس اور سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ ریزرویشن کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ انہی میں مزید ایک دعویٰ شامل ہو گیا۔ سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے حکم دیا ہےکہ دھرم بدلنے والے قبائلیوں (ایس ٹی)، عیسائیوں کا کاسٹ سرٹیفکیٹ رد کیا جائے گا۔ 

گونڈوانا دیپک کرانتی نامی ایک فیس بک یوزر نے کیپشن،’چھتیس گڑھ کے سی ایم کا بڑھا فیصلہ، دھرم بدلنے والے عیسائیوں کو نہیں ملے گا ریزرویشن کا فائدہ‘ کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ 

Facebook Post

اس تصویر میں بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کے دفتر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چھتیس گڑھ، بہار، رانچی، جھارکھنڈ میں دھرم تبدیل کرنے والے قبائلیوں کو کاسٹ سرٹیفکیٹ نہیں ملے گا۔ اب شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کے محض کھتیان کے بنیاد پر ہی کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ریتی-رواج، شادی اور جانشینی کی روایت کی جانچ کے بعد ہی کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ حقیقی شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) ذاتوں میں سے ریتی-رواج، شادی اور جانشینی کی روایت کی پیروی کرنے والے ہی کو کاسٹ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر فائدہ لینے کا اہل مانا جائے گا۔ ایسے قبائلی، جنھوں نے ہندو دھرم تبدیل کرکے عیسائی یا دیگر مذاہب کو اپنا لیا ہے، انھیں کاسٹ سرٹیفکیٹ نہیں دیا جائے گا۔ یہی نہیں، جنھیں ماضی میں کاسٹ سرٹیفکیٹ دیا جا چکا ہے، جانچ کے بعد اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل سے ملی صلاح کے بعد وزیراعلیٰ نے محکمل پرسنل (اہلکار) کو اس سے متعلق سرکلر جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

اسی سے ملتے جلتے دعوے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یوزرس کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ 

فیکٹ چیک

وائرل دعوے کے حوالے سے DFRACکی ٹیم نے گوگل پر مختلف کی-ورڈ کے ذریعے سرچ کیا لیکن ہمیں کسی بھی میڈیا ہاؤس کی طرف سے پبلش ایسی کوئی خبر یا رپورٹ کہیں نہیں ملی۔ اس کے بعد ہم نے چھتیس گڑھ کے سی ایم بھوپیش بگھیل کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل کو اسکرول کیا۔ ہمیں ان کا ایک ٹویٹ ملا، جس میں انہوں نے لکھا ہے– ’ہم ایس سی، ایس ٹی زمرے کے ریزرویشن کے مفادات کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم نے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کی طرف سے 58 فیصد ریزرویشن کی منسوخی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ یہ لڑائی پوری لگن، جانفشانی اور دیانتداری سے لڑی جائے گی۔ جے جوہار!‘

بعد ازاں  DFRAC ٹیم نے کچھ اور مخصوص کی-ورڈ کی مدد سے گوگل پر ایک سمپل سرچ کیا۔ DFRAC ٹیم کو ریزرویشن کے حوالے سے بہت سی رپورٹس ملیں۔

سرخی،’دھرم تبدیل کرنے والے دلتوں کو ریزرویشن ملے گا یا نہیں؟ سرکار نے کیا اہم فیصلہ‘ کے تحت زی مدھیہ پردیش-چھتیس گڑھ کی جانب سے پبلش رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام یا عیسائی مذہب قبول کرنے والے دلتوں کو ریزرویشن ملے گا یا نہیں؟  اس کی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے سابق چیف جسٹس بال کرشنن کی صدارت میں ایک کمیشن تشکیل دیا ہے، جو عیسائی یا مسلم مذہب اپنانے والے دلتوں کی صورتحال کی تفتیش کرے گا اور اس کی رپورٹ مرکزی حکومت کو سونپے گا‘۔ 

رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں، جن میں اسلام یا عیسائیت اختیار کرنے والے دلتوں کو ریزرویشن کا فائدہ جاری رکھنے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضیوں میں درج فہرست ذات کی تعریف پر نظر ثانی کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ ہندومت، سکھ اور بدھ مت کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی شیڈول کاسٹ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیشنل کونسل آف دلت کرسچن (این سی ڈی سی) نے بھی سپریم کورٹ میں دلت عیسائیوں کے لیے درج فہرست ذات (ایس ٹی) کا درجہ دینے کی عرضی دائر کی ہے۔ 30 اگست کو سپریم کورٹ نے ایسی ہی ایک عرضی پر سماعت کی۔

آئینِ ہند کے آرٹیکل 341 کے مطابق شیڈول کاسٹ کا درجہ صرف ان لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جو ہندو، سکھ اور بدھ مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ اصل آرڈر میں صرف ہندوؤں کو ایس سی کے طور پر درج کیا گیا تھا، لیکن 1956 میں سکھوں اور 1990 میں بدھ مت کو بھی درج فہرست ذات کے طور پر درجہ بندی کی گئی۔ 

ویب سائٹ ’دی للَّن ٹاپ‘ کی جانب سے سرخی،’اگر کوئی شخص مذہب تبدیل کر لے تو ذات طے کیسے ہوتی ہے؟‘ پبلش رپورٹ میں حیدرآباد واقع NALSAR لاء یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور انڈین اکیڈمِک اینڈ لیگل ایکسپرٹ فیضان مصطفیٰ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ-’دو طرح کے مسئلے اٹھے ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ کوئی ایس سی/ ایس ٹی ہے اور اس نے دھرم تبدیل کر لیا، تو وہ فوراً اپنا ریزرویشن کا بینیفِٹ (فائدہ) کھو دے گا۔ شیڈیول کاسٹ 1950 کا جو پریسیڈینشیل آرڈر ہے، اس کے حساب سے شیڈیول کاسٹ کو ریزرویشن کا فائدہ پانے کے لیے ہندو ہونا ضروری ہے۔ بعد میں اس میں بودھ اور سکھ بھی جوڑ دیے گئے۔ دوسرا پہلو سپریم کورٹ سے جڑا ہے، جس کا فیصلہ کہتا ہے کہ ری کنورژن پر شخص اپنی آریجینل کاسٹ پا جائے گا۔ 

فیضان مصطفیٰ نے للَّن ٹاپ سے بات کرتے ہوئے مزید کہا،’ آج کی تاریخ میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن جو ہے وہ شیڈیول کاسٹ میں۔ زبردستی آپ لوگوں کو ہندو رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جو دلت عیسائی ہیں انھیں ریزرویشن نہیں دے رہے ہیں۔ وہیں شیڈول ٹرائب مسلمان بھی ہو سکتا ہے ہندو بھی ہو سکتا ہے لیکن شیڈول کاسٹ صرف ہندو ہو سکتے ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل دیا گیا کمیشن دو سال کے اندر اپنی رپورٹ دے گا۔

نتیجہ

DFRAC کے اس فیکٹ چیک سے یہ واضح ہے کہ چھتیس گڑھ کے سی ایم کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے کہ جو قبائلی عیسائی ہندو دھرم کے علاوہ کوئی اور مذہب اختیار کرتا ہے، اس کا کاسٹ سرٹیفکیٹ رد کر دیا جائے گا یا کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا، اس لیے سوشل میڈیا یوزرس کی جانب سے کیا جا رہا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ 

دعویٰ: چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ نے دیا ہندو دھرم چھوڑنے والے قبائلیوں، عیسائیوں کا کاسٹ سرٹیفکیٹ کو رد کرنے کا حکم 

دعویٰ کنندگان: سوشل میڈیا یوزرس

فیکٹ چیک: گمراہ کن