Digital Forensic, Research and Analytics Center

بدھ, نومبر 30, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

فیکٹ چیک: کیا کشمیر میں تین لاکھ کشمیری ہندوؤں کا قتل عام؟ اشوک پنڈت نے کیا فیک دعویٰ

گوا میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (IFFI)...

فیکٹ چیک: ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا فیک اسکرین شاٹ وائرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹ کا ایک اسکرین شاٹ سوشل...

آن لائن اسکین الرٹ: قطر نہیں دے رہا 50GB فری ڈیٹا- پڑھیں فیکٹ چیک

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا...

فیکٹ چیک: ’36 ٹکڑےکرنے‘ کا بیان دینے والا راشد خان نہیں، وکاس کمار ہے

شردھا واکر کو اس کے پارٹنر آفتاب پونہ والا...

یو پی اے حکومت کے 2004 میں بحریہ کے جھنڈے میں ’سینٹ جارج کراس‘ پھر سے جوڑنے کی میڈیا-بی جے پی کے رہنماؤں نے پھیلائی گمراہ کن خبر

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 ستمبر 2021 کو کوچی میں ہندوستانی بحریہ کے نئے پرچم کی نقاب کشائی کی۔ ہندوستانی بحریہ کے پرچم سے ’سینٹ جارج کراس‘ کو ہٹا دیا گیا اور چھترپتی شیواجی کی مہر سے متاثر ایک آکٹونل شیلڈ کو شامل کیا گیا، جس میں لنگر کے اوپر قومی نشان اور اس کے نیچے ہندوستانی بحریہ کا نعرہ ’شام نو ورونہ‘ لکھا ہوا ہے۔ اس سے پہلے جھنٹے کے مرکز میں سینٹ جارج کراس اور اس کے نیچے ’ستیہ میو جَیتے‘ لکھا ہوا تھا۔ 

اس تبدیلی کو تاریخی سمجھا گیا کیونکہ بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بھارت نوآبادیاتی دور کی تمام علامتوں کو ختم کر رہا ہے۔ یہ بہت سے میڈیا ہاؤسز اور رائٹ ونگ (دائیں بازوں افراد) کے لیے بھی بحث کا موضوع تھا کیونکہ اس سے قبل 2001 میں بھی اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور میں ہندوستانی بحریہ کے جھنڈے کو تبدیل کیا گیا تھا اور نوآبادیاتی نشان ’سینٹ جارج کراس‘ کو ہٹا دیا گیا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر 2004 میں ہندوستانی بحریہ کا جھنڈا دوبارہ تبدیل کر دیا گیا اور ’سینٹ جارج کراس‘ کو دوبارہ شامل کر لیا گیا۔

اس کے لیے نیوز چینلوں اور بی جے پی کے رہنماؤں نے یو پی اے (متحدہ ترقی پسند) حکومت اور اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

آج تک کے اینکر سدھیر چودھری نے بھی اپنے شو ’بلیک اینڈ وائٹ‘ میں یہی دعویٰ کیا ہے۔ اسے نیچے دیے گئے ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے۔

~Aaj Tak

دینک جاگرن نے بھی یہی دعویٰ کرتے ہوئے ہیڈلائن’ ndian Navy New Ensign: پہلے بھی بدلا تھا بحریہ کا پرچم، کانگریس واپس لائی تھی غلامی کی علامت جارج کراس‘ کے تحت نیوز پبلش کی ہے۔

دینک جاگرن

ریڈٹ اے اے پی پیج انڈیا اسپکس اور بی جے پی گوا نے  بھی اسی دعوے کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ 

فیکٹ چیک

یو پی اے حکومت کی جانب سے بحریہ کے جھنڈے پر ’سینٹ جارج کراس‘ جوڑنے کے دعوے کی جانچ-پڑتال کرنے کے لیے DFRAC ٹیم نے گوگل پر کچھ مخصوص کی-ورڈ کی مدد سے سرچ کیا اور ٹیم کو ویب سائٹ fandom.com کی جانب سے پبلش ایک رپورٹ ملی۔ 

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے،’2001 میں اس جھنڈے کو بھارتی بحریہ کے چوٹی والے ایک سفید جھنٹے کے ساتھ بدل دیا گیا تھا کیونکہ گذشتہ پرچم کو بھارت کے نوآبادیاتی ماضی کی عکاس سمجھا گیا تھا۔ حالانکہ شکایات سامنے آئیں کہ نیا جھنڈا بحریہ چوٹی کے نیلا رنگ ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہے کیونکہ یہ رنگ نیلا ہونے کے سبب بہ آسانی آسمان اور سمندر کے ساتھ مل جاتا ہے، لہٰذا 2004 میں کراس کے درمیان ہندوستانی پرچم کو رکھنے کے ساتھ اس کو سینٹ جارج کراس ڈیزائن میں واپس بدل دیا گیا تھا‘۔

اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جھنڈا تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، لیکن پھر بھی یہ جاننے کے لیے کہ ہندوستانی بحریہ کا جھنڈا یو پی اے حکومت کی وجہ سے تبدیل ہوا ہے یا نہیں، ٹیم نے دوبارہ کچھ کی-ورڈ سرچ کیے اور اسے  reddif.com پر ایک رپورٹ ملی، جس میں بتایا گیا ہے کہ 25 اپریل 2004 کو، ہندوستانی بحریہ نے کچھ ہندوستانی چیزوں کے ساتھ ’کراس‘ کو واپس لے آئی۔ 

اس کے بعد ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف کب لیا تھا تو ہم نے پایا کہ وکی پیڈیا پیج کے مطابق ڈاکٹر سنگھ نے 22 مئی 2004 کو حلف اٹھایا تھا۔

نتیجہ:

DFRAC کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ مختلف مین اسٹریم میڈیا ہاؤسز، نیوز ویب سائٹس اور بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے کیونکہ پہلی تاریخ جس دن ہندوستانی بحریہ کے جھنڈے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ 25 اپریل 2004 تھی، اس وقت بی جے پی کی حکومت تھی اور منموہن سنگھ نے 22 مئی 2004 کو حلف اٹھایا تھا۔

دوسرے، نیا فلیگ ناقابل شناخت تھا کیونکہ یہ نیلے رنگ کی وجہ سے آسمان اور سمندر کے ساتھ آسانی سے مل جاتا تھا۔ بہت سی شکایات بھی آئی تھیں اس لیے تبدیل کیے جانے کی ضرورت تھی۔

دعویٰ: یو پی اے حکومت نے سال 2004 میں بحریہ کے پرچم پر ’سینٹ جارج کراس‘ کو دوبارہ ڈیزائن کیا تھا

دعویٰ کنندگان: مختلف میڈیا ہاؤسز اور بی جے پی کے متعدد رہنما

فیکٹ چیک: گمراہ کن