بہار کے بھوجپور میں بھارت تیواری کے انکاؤنٹر کا معاملہ خبروں میں ہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں کئی لوگوں کو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت تیواری انکاؤنٹر کے بعد سورن سماج نے پولیس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
وائرل ویڈیو پر متن لکھا ہے، ’’بھارت تیواری انکاؤنٹر کے خلاف سورن سماج کی بارود کی ہولی، بہار۔ نیا بہار۔‘‘ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے نیشن مسلم نامی صارف نے لکھا، ’’بھارت تیواری کا انکاؤنٹر ہوا تو بہار کے لوگوں نے پولیس کے خلاف محاذ کھول دیا!‘‘

مکیش کمار نامی ایک اور صارف نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’بھوجپور بہار میں شرپسند نوجوان بھارت تیواری نے پولیس پر ہتھیار تان دیا، گولی چلائی، پھر اس کا انکاؤنٹر ہوا تو اس کی ذات کے لوگ اسے سماجی کارکن قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ملک میں غنڈوں کو انقلابی بتایا جائے گا۔ اگر یہ مظاہرہ ہتھیاروں کے ساتھ اس کی حمایت میں ہے تو سب پر مقدمہ ہونا چاہیے۔‘‘

اس کے علاوہ اس ویڈیو کو کئی دیگر صارفین نے بھی بھارت تیواری انکاؤنٹر سے جوڑتے ہوئے سورن سماج کے مظاہرے کے طور پر شیئر کیا ہے، جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے
فیکٹ چیک:
ہم نے جانچ میں پایا کہ یہ ویڈیو بہار کی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا بھارت تیواری انکاؤنٹر سے کوئی تعلق ہے۔ یہ ویڈیو ادے پور سٹی آف لیکس نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 5 مارچ کو پوسٹ کی گئی تھی، جسے راجستھان کے ادے پور کے مینار گاؤں میں بارود کی ہولی کا بتایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا ہے، ’’میواڑ (ادے پور، راجستھان) کی بارود ہولی — رنگوں کی نہیں بلکہ شجاعت اور روایت کی ایک منفرد پہچان ہے۔ میواڑ، بارود کی ہولی، مینار گاؤں ادے پور راجستھان، میناریا کی ہولی، مینار فائر ہولی۔‘‘

مزید جانچ کے دوران ہمیں ایک اور ویڈیو ملی، جس میں مینار گاؤں میں بارود سے ہولی کھیلنے کی تاریخ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ اس روایت کی شروعات مہارانا امر سنگھ کے دور سے ہوئی تھی، جب مغلوں کی چوکی کو مینار گاؤں سے ختم کر دیا گیا تھا۔

ویڈیو کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ہماری ٹیم نے ادے پور سٹی آف لیکس کے منتظم کمل سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ویڈیو راجستھان کے مینار گاؤں کی ہولی کی ہے اور ویڈیو کے ساتھ کیے جا رہے دعووں کو غلط قرار دیا۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وائرل ویڈیو راجستھان کے ادے پور کی ہے اور مارچ کے مہینے کی ہے، جس کا بہار میں بھارت تیواری انکاؤنٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
