سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک نوجوان ایک بزرگ شخص کے ساتھ مارپیٹ کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وائرل ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اتر پردیش کے سہارنپور کا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک بیٹے نے اپنے والد کو اس لیے مارا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر اپنی بہو کے ساتھ کوئی نامناسب حرکت کی تھی۔ بعض پوسٹس میں اس ویڈیو کو ایک مخصوص مذہب سے جوڑ کر بھی شیئر کیا گیا ہے۔
تصدیق شدہ صارف ماینک اپادھیائے نے ایکس پر یہ وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایک مخصوص مذہب کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔

دوسری جانب ایک اور تصدیق شدہ صارف رنجنا سنگھ نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے لکھا، ’’دیکھو، بوڑھے آدمی کو مارا جا رہا ہے، اس نے ضرور کوئی اچھا کام کیا ہوگا… آخر اس نے نور (داڑھی) جو رکھی ہوئی ہے۔‘‘

فیکٹ چیک:
وائرل ویڈیو کے ساتھ کیے گئے دعوے کی جانچ کے لیے ڈی ایف آر اے سی نے ویڈیو کو کی فریمز میں تبدیل کیا اور ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں یو پی تک کی جانب سے 9 جون 2026 کو ایکس پر پوسٹ کی گئی اسی واقعے سے متعلق ویڈیو ملی۔
واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے یو پی تک نے بتایا: ’’رشتوں کو شرمسار کر دینے والی ایک چونکا دینے والی ویڈیو سہارنپور سے وائرل ہوئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک بیٹا اپنے بزرگ والد کو تھپڑ مارتے، مکے مارتے اور ان کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ واقعے کی وجہ جائیداد کا تنازع تھا۔‘‘

مزید جانچ کے دوران ہمیں اس ویڈیو سے متعلق این ڈی ٹی وی انڈیا کی ایک رپورٹ بھی ملی، جو 9 جون 2026 کو شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ سہارنپور ضلع کے کوتوالی کتب شیر تھانہ علاقے کے مانک ماؤ گاؤں میں پیش آیا تھا۔ بیٹے کی جانب سے والد پر حملے کی یہ پوری واردات سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی تھی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بزرگ شخص حاجی تحسین کو ان کے بیٹے گلفشان نے سڑک کے درمیان مارا پیٹا۔ بیٹے نے مبینہ طور پر اپنے والد کو تھپڑ مارے اور ان کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ خبروں کے مطابق گھریلو تنازع کے باعث باپ اور بیٹے کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد بیٹے نے اپنے والد پر حملہ کر دیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا اور مزید تفتیش شروع کر دی۔

اس کے علاوہ سہارنپور پولیس نے بھی ڈی ایف آر اے سی کو بتایا کہ ملزم کو کتب شیر تھانے کی پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا تھا۔ ڈی ایف آر اے سی سے گفتگو میں کتب شیر تھانے کے انسپکٹر سنتوش سنگھ نے بتایا کہ مارپیٹ کرنے والا نوجوان ذہنی طور پر پریشان تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں والد اور بیٹے کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں نوجوان کے خلاف کارروائی کی۔
نتیجہ:
فیکٹ چیک سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا جا رہا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ اصل واقعہ سہارنپور میں باپ اور بیٹے کے درمیان گھریلو اور جائیداد کے تنازع سے متعلق تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو جھوٹے سیاق و سباق اور گمراہ کن فرقہ وارانہ دعووں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

