MP assault video

فیکٹ چیک: مدھیہ پردیش میں پراپرٹی تنازع کے باعث مارپیٹ کی ویڈیو کو مسلم شخص پر حملہ بتا کر جھوٹا دعویٰ کیا گیا

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں ایک غریب مسلم شخص کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، جبکہ اس کی بیوی ہاتھ جوڑ کر روتی رہی اور حملہ آوروں سے رحم کی اپیل کرتی رہی۔

سرونٹ آف دی ورلڈ نامی ایک صارف نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہندو دہشت گرد، برے اور نفرت انگیز لوگ ہیں، اور ان میں سے بہت سے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ اس نے مزید لکھا کہ وہ ایک فلسطینی ہے اور صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ ہر مظلوم کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

Link

ایک اور صارف لیٹس گووو نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت کے مسلمان پاکستان یا بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک میں ہجرت کیوں نہیں کر جاتے۔

Link

اس ویڈیو کو متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس دعوے کو مزید پھیلایا گیا کہ یہ حملہ مذہبی نفرت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس دعوے کو یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی نے وائرل دعوے کی جانچ کی اور اسے غلط پایا۔ جانچ کے لیے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریمز نکال کر ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ایم پی تک کی ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا کے ناگود علاقے میں پیش آیا تھا اور اس کا تعلق پراپرٹی تنازع سے تھا۔

رپورٹ میں متاثرہ شخص کی شناخت ’’دھیرو (دیپو) چودھری‘‘ کے طور پر کی گئی، جو ایک مزدور ہے۔ بتایا گیا کہ وہ متنازعہ زمین پر تعمیراتی کام کر رہا تھا، جس دوران مقامی افراد نے اس پر حملہ کر دیا۔ ویڈیو میں اس کی بیوی کو روتے ہوئے اور مدد کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دھیرو کو بالوں سے گھسیٹ کر مارا پیٹا جا رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ حملے کے پیچھے کوئی مذہبی وجہ تھی۔

مزید تصدیق کے دوران ہمیں این ڈی ٹی وی مدھیہ پردیش/چھتیس گڑھ کی ایک رپورٹ بھی ملی، جس میں یہی مناظر دکھائے گئے تھے۔ این ڈی ٹی وی نے بھی متاثرہ شخص کی شناخت ’’دیپو چودھری‘‘ کے طور پر کی اور واقعے کو مقامی پراپرٹی تنازع کا نتیجہ قرار دیا۔

اس کے علاوہ ہماری ٹیم نے ناگود پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اشوک پانڈے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کا ہندو-مسلم یا کسی بھی فرقہ وارانہ زاویے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ متاثرہ شخص اور ملزمان دونوں ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق دو بھائیوں کے درمیان جائیداد کا تنازع تھا۔ ان میں سے ایک بھائی نے متنازعہ زمین پر تعمیراتی کام کے لیے دیپو چودھری کو رکھا تھا، جبکہ دوسرے بھائی نے تعمیرات پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں جھگڑا اور مارپیٹ ہوئی۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کی جانچ سے واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو کو جھوٹے فرقہ وارانہ بیانیے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ شخص کی شناخت دھیرو (دیپو) چودھری کے طور پر ہوئی ہے اور مارپیٹ کا یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا میں پراپرٹی تنازع کے باعث پیش آیا تھا۔ پولیس اور میڈیا رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ واقعے میں کسی مذہبی محرک کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور متاثرہ شخص و ملزمان دونوں ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔