عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم کرنے کے لیے ملک کے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کی تھی۔ پی ایم مودی کے اس بیان کی میڈیا میں کوریج بھی ہوئی اور پوسٹ کارڈ بھی میڈیا اداروں کی جانب سے پوسٹ کیے گئے۔ اس درمیان سوشل میڈیا پر پی ایم مودی کے بیان کا ایک پوسٹ کارڈ خوب وائرل ہو رہا ہے۔ نو بھارت ٹائمز (این بی ٹی) کے اس پوسٹ کارڈ میں پی ایم مودی کا بیان لکھا ہے، ’’یہ وقت سونا خریدنے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت ماؤں اور بہنوں کی قربانی کا ہے، ماؤں اور بہنوں سے اپیل ہے کہ سونا بیچ کر سارا پیسہ اپنے بینک میں جمع کروائیں۔‘‘
اس پوسٹ کارڈ کو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے یادو جن شکتی پارٹی نامی صارف نے لکھا، ’’یہ وقت سونا خریدنے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت ماؤں اور بہنوں کی قربانی کا ہے، ماؤں اور بہنوں سے اپیل ہے کہ سونا بیچ کر سارا پیسہ اپنے بینک میں جمع کروائیں۔‘‘

وہیں ایک دوسرے فیس بک صارف ونود چند نے اس پوسٹ کارڈ کو شیئر کرتے ہوئے انگریزی زبان میں کیپشن لکھا، جس کا ہندی ترجمہ ہے، ’’تو یہ بات ہے۔ نریندر مودی نے ماؤں اور بہنوں سے کہا ہے کہ وہ اپنا سونا بیچ دیں اور پیسے بینک کھاتے میں جمع کر دیں۔ اب آپ ہی بتائیے، آپ کے منگل سوتر کے لیے کون آ رہا ہے؟‘‘

فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے پی ایم مودی کے وائرل پوسٹ کارڈ کی جانچ میں پایا کہ یہ فرضی ہے۔ پی ایم مودی نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے اور نو بھارت ٹائمز (این بی ٹی) نے بھی ایسا کوئی پوسٹ کارڈ شائع نہیں کیا ہے۔ چونکہ وائرل پوسٹ کارڈ پر این بی ٹی کا لوگو لگا ہے اور پوسٹ کارڈ کا ڈیزائن بھی این بی ٹی کا ہے، اس لیے ہماری ٹیم نے سب سے پہلے این بی ٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو دیکھا۔ ہمیں این بی ٹی ہندی نیوز کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ ملی، جس میں وائرل پوسٹ کارڈ کو فرضی قرار دیا گیا ہے۔
اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے، ’’سوشل میڈیا پر نوبھارت_ٹائمز کی ایک ڈیجیٹلی آلٹرڈ تصویر کے ذریعے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خواتین سے سونا بیچ کر رقم بینک میں جمع کروانے کی اپیل کی ہے۔ یہ دعویٰ فرضی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی ہے۔ براہِ کرم محتاط رہیں — این بی ٹی کے نام کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی خبر کی صداقت اور سرکاری معلومات کے لیے صرف این بی ٹی کے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز اور پلیٹ فارمز پر ہی اعتماد کریں۔‘‘

وہیں، مزید جانچ میں ہمیں بھارت سرکار کی نوڈل ایجنسی پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی فیکٹ چیک یونٹ کی بھی ایک پوسٹ ملی، جس میں وائرل پوسٹ کارڈ کو فرضی قرار دیا گیا ہے۔ پی آئی بی نے لکھا، ’’سوشل میڈیا پر نوبھارت_ٹائمز کی ایک ڈیجیٹلی آلٹرڈ تصویر کے ذریعے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خواتین سے سونا بیچ کر رقم بینک میں جمع کروانے کی اپیل کی ہے۔ یہ دعویٰ فرضی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندرمودی نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے عالمی حالات کے پیشِ نظر عوام سے سونے کی خریداری مؤخر کرنے کی اپیل کی تھی۔ براہِ کرم محتاط رہیں۔ ایسی مشتبہ معلومات کے جھانسے میں نہ آئیں۔ صرف سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر ہی یقین کریں۔‘‘
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل دعویٰ فرضی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کی ماؤں اور بہنوں سے سونا بیچ کر بینک میں پیسہ جمع کرانے کی اپیل نہیں کی ہے اور نہ ہی نو بھارت ٹائمز نے اس فرضی بیان کا کوئی پوسٹ کارڈ شائع کیا ہے۔ اس لیے صارفین کا دعویٰ فرضی ہے۔

