عید الاضحیٰ کا تہوار بھارت سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں منایا گیا۔ بھارت میں جہاں عید 28 مئی کو منائی گئی، وہیں عرب ممالک اور دیگر ممالک میں 27 مئی کو عید منائی گئی۔ عید کے دن مسلمان مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو لندن کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں کئی مسلمانوں کو فرش پر بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ لندن میٹرو میں عید کی نماز ادا کی گئی۔
وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مہاویر نامی صارف نے لکھا: ’’لندن میٹرو میں بقرعید‘‘۔

ایک اور صارف بھکت پرہلاد نے بھی اس ویڈیو کو لندن میٹرو کا بتاتے ہوئے شیئر کیا۔ صارف نے انگریزی میں کیپشن لکھا، جس کا اردو ترجمہ ہے: ’’برطانیہ اسلامی انتہاپسندوں کے آگے جھک گیا ہے۔ لندن میٹرو میں بقرعید۔ خوشامدانہ پالیسی جلد ہی برطانیہ کو تباہ کر ‘‘دے گی۔

اس کے علاوہ کنسرنڈ سٹیزن، وویک مشرا، سبودھ شرما اور رولا تلج سمیت کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو لندن میٹرو کا بتا کر شیئر کیا۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو لندن میٹرو میں نماز ادا کیے جانے کا حقیقی ویڈیو نہیں ہے، بلکہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کا بغور جائزہ لیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ویڈیو میں نماز پڑھنے والے مسلمانوں کی سمت درست نہیں ہے، کیونکہ مسلمان کبھی بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے دو قطاروں میں نماز ادا نہیں کرتے۔ نماز کے دوران تمام مسلمان باقاعدہ صفوں میں ایک ہی سمت کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا رخ کعبۃ اللہ کی جانب ہوتا ہے۔

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے گوگل پر "بقرعید کی نماز لندن میٹرو میں” کے حوالے سے تلاش کی۔ ہمیں کسی بھی معتبر میڈیا ادارے کی ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی جس میں لندن میٹرو میں عید کی نماز ادا کیے جانے کا ذکر ہو۔

اس کے بعد ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کا مختلف اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز کے ذریعے تجزیہ کیا۔ ہم نے ڈیپ فیک او میٹر پر جانچ کی، جو یونیورسٹی آف بفیلو اور یو بی میڈیا فارنزکس لیب کا پلیٹ فارم ہے۔ اس پر موجود مختلف ٹولز کے ذریعے ویڈیو کا تجزیہ کیا گیا، جس کے نتائج کے مطابق ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ پایا گیا۔ اے وی ایس آر ڈی ڈی (2025) نے 99.9 فیصد، آلٹ فریزنگ (2023) نے 98.7 فیصد، لِپ اِنک (2024) نے 99.9 فیصد، ایل ایس ڈی اے (2024) نے 72.8 فیصد، ٹال (2023) نے 100 فیصد اور ایکس کلپ (2022) نے 86.6 فیصد امکان ظاہر کیا کہ یہ اے آئی مواد ہے۔

اسی طرح ہائیو ماڈریشن پر کی گئی جانچ میں بھی ویڈیو کے اے آئی سے تیار کیے جانے کے امکانات 94.9 فیصد پائے گئے۔
مزید تفصیلی تجزیے کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ماہر کمار انکیت سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق:
1. چہروں اور جسمانی ساخت میں غیر معمولی مماثلت
ویڈیو میں ایک ہی قطار میں بیٹھے متعدد افراد کے چہرے، داڑھیوں کی ساخت، ٹوپیاں اور جسمانی انداز غیر معمولی حد تک ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ اے آئی ویڈیو جنریشن میں اکثر ایسا ’’کلوننگ ایفیکٹ‘‘ دیکھا جاتا ہے۔
2. ہاتھوں اور انگلیوں کی غیر فطری ساخت
کچھ فریمز میں ہاتھوں کی پوزیشن غیر معمولی حد تک ساکت اور مصنوعی محسوس ہوتی ہے۔ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز میں ہاتھ اور انگلیاں اکثر غلط تناسب یا غیر فطری انداز میں نظر آتے ہیں۔
3. اشیاء کی ساخت میں باریک بے قاعدگیاں
میٹرو کے پولز، نشستوں کے کناروں اور نماز کی جائے نمازوں کی حدود میں ہلکی سی بے قاعدگیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اے آئی ماڈلز بعض اوقات زاویوں اور جیومیٹری کو مکمل طور پر درست برقرار نہیں رکھ پاتے۔
4. غیر معمولی بصری ترتیب
پورا منظر حد سے زیادہ ’’پرفیکٹ‘‘ اور ڈرامائی انداز میں ترتیب دیا گیا محسوس ہوتا ہے۔ دونوں جانب بیٹھے افراد کی یکسانیت، صفوں کی غیر معمولی ترتیب اور کیمرے کا مثالی زاویہ ایک مصنوعی منظر کا تاثر دیتا ہے، جو اے آئی مواد میں اکثر دیکھا جاتا ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ویڈیو لندن میٹرو کا حقیقی ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، لہٰذا صارفین کا دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے۔

