MP

فیکٹ چیک: ایم پی میں پجاری کو دھمکانے والے ‘مہیش یادو’ کو مسلمان بتا کر فرقہ وارانہ دعویٰ کیا گیا

Fact Check

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مدھیہ پردیش کے سیہور میں واقع قدیم چنتامن گنیش مندر میں ایک مسلمان شخص تلوار لے کر گھس گیا اور اس نے مندر کے پجاری کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص تلوار لے کر پجاری اور ایک دوسرے معاون کے ساتھ ہاتھاپائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے جتیندر پرتاپ سنگھ نامی صارف نے لکھا:

‘یہ ہے بھارت کا مبینہ طور پر ڈرا ہوا اور ستایا ہوا مسلمان۔ مدھیہ پردیش کے سیہور کے قدیم چنتامن گنیش مندر کے اندر ایک مسلمان تلوار لے کر داخل ہوا اور پجاری کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر موہن یادو سو رہے ہیں جبکہ ہندو مندروں اور پجاریوں پر کھلے عام حملے ہو رہے ہیں۔’

اسی طرح کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

فیکٹ چیک:

DFRAC ٹیم کی جانچ میں معلوم ہوا کہ یہ واقعہ حالیہ نہیں بلکہ جولائی 2025 کا ہے۔ اس معاملے میں ملزم کا نام مہیش یادو ہے، جس کے خلاف اس وقت پولیس نے مقدمہ درج کرکے کارروائی کی تھی۔

ہمیں اس ویڈیو سے متعلق 26 جولائی 2025 کی خبریں نو بھارت ٹائمز اور دینک بھاسکر میں ملیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ملزم مہیش یادو تھا، جس نے پیسوں کے مطالبے کو لے کر پجاری کو دھمکایا تھا۔

نو بھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق:

‘یہ معاملہ سیہور کے مشہور چنتامن گنیش مندر کا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر مہیش یادو نامی شخص مندر کے اندر پجاری جئے دوبے اور سیوادار لوکیش سونی کے ساتھ دھکا مکی کرنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا تیز دھار ہتھیار بھی تھا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ کاغذ میں ہتھیار چھپا کر مندر میں داخل ہوتا ہے اور پھر اسے دکھا کر دھمکی دیتا ہے کہ 24 گھنٹے میں پیسے نہ ملے تو بڑا حملہ کرے گا۔’

مزید جانچ میں اس واقعے کی مکمل کوریج ‘دی سوترا’ نامی یوٹیوب چینل پر بھی ملی، جس میں پجاری جئے دوبے اور پولیس افسر ابھی نندنا شرما کے بیانات شامل ہیں۔ پجاری کے مطابق:

‘مہیش یادو بلا وجہ پیسوں کا مطالبہ کرنے لگا۔ جب میں نے کہا کہ میرا اس سے کوئی لین دین نہیں، تو وہ گالی گلوچ کرنے لگا اور اپنے ساتھ تلوار لایا تھا، جس سے اس نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔’

اس کے علاوہ، سیہور پولیس کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) ہینڈل پر 26 جولائی 2025 کو جاری بیان میں بھی کہا گیا کہ:
‘پجاری کی شکایت پر، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل تھی، تھانہ منڈی میں مقدمہ درج کیا گیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔’

نتیجہ:

DFRAC کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ وائرل ویڈیو جولائی 2025 کی پرانی ہے اور اس میں شامل ملزم مہیش یادو کو غلط طور پر مسلمان بتا کر گمراہ کن اور فرقہ وارانہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا پر کیا گیا دعویٰ غلط ہے۔