سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک ہجوم کو امریکہ اور اسرائیل کے پرچموں کے ساتھ ساتھ بھارتی ترنگا بھی جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ پرچم ایران کے دارالحکومت تہران میں جلایا گیا ہے۔
دھرووا نامی ایک صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انگریزی زبان میں کیپشن لکھا، جس کا اردو ترجمہ ہے: ’’ایرانی لوگ اسرائیلی اور امریکی پرچموں کے ساتھ بھارتی پرچم کیوں جلا رہے ہیں؟ یہ سچ ہے کہ جے شنکر نے خارجہ پالیسی کو برباد کر دیا ہے اور یہ ان کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ بی جے پی کی وجہ سے دنیا ہم سے نفرت کر رہی ہے۔‘‘

راج (جے بھگوا) نامی ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’بھارت کا سب سے بڑا دشمن ہمارے پرچم کو جلا رہا ہے… اور اندازہ لگاؤ کون خاموش بیٹھا ہے؟ ایران اِن انڈیا، ایران اِن حیدرآباد۔ ایران ہمارا دوست نہیں ہے۔ بھارت کے لیے ان کی نفرت صاف نظر آ رہی ہے، لیکن ہمارا ترنگا ایران میں جلایا جا رہا ہے، جاگو!‘‘

اس کے علاوہ کئی دیگر صارفین نے بھی اس ویڈیو کو ایران سے جوڑتے ہوئے شیئر کیا ہے، جسے یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھارتی پرچم جلائے جانے کی وائرل ویڈیو ایران کی نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے کراچی کی ہے۔ وائرل ویڈیو کی جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے سب سے پہلے ویڈیو کو کی فریمز میں تبدیل کیا، پھر گوگل لینس کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا۔ ہمیں یہ ویڈیو ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ ملی، جس کے ساتھ دی گئی معلومات میں اسے نمائش، محمد علی جناح روڈ، کراچی بتایا گیا ہے۔
اس ویڈیو کے ساتھ معلومات دی گئی ہیں:
’’پاکستان کے کراچی سے سامنے آنے والی تصاویر میں ایران کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کے دوران امریکی اور اسرائیلی پرچموں کے ساتھ ساتھ بھارتی پرچم بھی جلائے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ واضح طور پر بھارت، امریکہ اور اسرائیل مخالف پیغام تھا۔ اس میں ایک عجیب تضاد بھی نظر آتا ہے کہ سڑکوں پر امریکہ مخالف نعرے لگائے جا رہے تھے، جبکہ پاکستان کی قیادت امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایک بار پھر نعروں اور حقیقت کے درمیان فرق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔‘‘

وائرل ویڈیو کو باریک بینی سے دیکھنے پر ہم نے پایا کہ ویڈیو میں ایک بینر نظر آ رہا ہے، جس پر اردو زبان میں "امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کراچی” لکھا ہوا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان کے کراچی کی ہے۔

مزید جانچ کے دوران ہم نے دیکھا کہ وائرل ویڈیو میں ایک عمارت بھی نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد ہم نے گوگل میپ پر نمائش، محمد علی جناح روڈ، کراچی میں اس عمارت کو تلاش کیا۔ ہم نے پایا کہ یہ مڈ ٹاؤن عمارت ہے، جو کراچی میں واقع ہے۔
مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے ایران کے فری لانس صحافی اور مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ رہنے والے حسن زیدی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ایران کی ویڈیو نہیں ہے اور ایران کے کسی بھی شہر میں بھارتی پرچم جلائے جانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی ویڈیو معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ویڈیو میں موجود افراد شلوار قمیض پہنے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ہم نے دیگر صحافیوں عاقف زیدی اور ضمیر عباس جعفری سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی بتایا کہ ایران میں بھارتی پرچم جلائے جانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور وائرل ویڈیو کراچی، پاکستان کی ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی پرچم جلائے جانے کی شیئر کی گئی ویڈیو ایران کی نہیں ہے۔ یہ ویڈیو کراچی، پاکستان کی ہے۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
