سوشل میڈیا پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور سے متعلق ایک تصویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ آئی آئی ٹی کانپور میں ریزرویشن کے خلاف طلبہ کی جانب سے کیے گئے احتجاج کی تصویر ہے۔ تصویر میں طلبہ کو ہاتھوں میں ’’ریزرویشن ہٹاؤ‘‘ لکھی ہوئی تختیاں پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Source: X
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق شدہ صارف ریزرویشن ہٹاؤ آندولن نے وائرل تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ طلبہ نے ریزرویشن کے خلاف احتجاج کیا، ساتھ ہی آئی آئی ٹی کانپور کا ذکر کیا۔
فیکٹ چیک:
وائرل تصویر کے ساتھ کیے گئے دعوے کی جانچ کے لیے ڈی فریک کی ٹیم نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور سے متعلق خبروں اور رپورٹس کا جائزہ لیا۔ اس دوران ہمیں ایسی کوئی معتبر خبر نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حالیہ دنوں میں آئی آئی ٹی کانپور میں طلبہ نے ریزرویشن کے خلاف کوئی احتجاج کیا ہو۔

اس کے بعد تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے وائرل تصویر کی جانچ اے آئی ڈیٹیکشن ٹول ہائیو ڈیٹیکٹ کے ذریعے کی گئی۔ جانچ میں سامنے آیا کہ وائرل تصویر اے آئی سے تیار کردہ ہے۔ تصویر کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان 99.9 فیصد پایا گیا۔

اسی طرح ایک دوسرے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول ڈیپ اے آئی کے ذریعے بھی وائرل تصویر کی جانچ کی گئی۔ اس جانچ میں بھی تصویر کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔ تصویر کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان 97 فیصد بتایا گیا، جبکہ تصویر کو ’’جعلی‘‘ کا ٹیگ بھی دیا گیا۔
آخر میں وائرل تصویر کی جانچ ایک اور اے آئی ڈیٹیکشن ٹول ٹروتھ اسکین کے ذریعے کی گئی۔ اس میں بھی نتیجہ سامنے آیا کہ تصویر اے آئی سے تیار کردہ ہے اور اس کے اے آئی سے تیار ہونے کا امکان 97 فیصد ہے۔

وائرل تصویر کے حوالے سے ڈی فریک کی ٹیم نے اے آئی ماہر آصف شیخ، ڈائریکٹر، سنکساس ٹیکنالوجیز سے بھی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ تصویر میں موجود تحریر، لوگوں کے چہروں اور جسمانی ساخت میں واضح بے قاعدگیاں نظر آتی ہیں، جو اس بات کی مضبوط نشاندہی کرتی ہیں کہ وائرل تصویر اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔
نتیجہ:
ڈی فریک کے فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ آئی آئی ٹی کانپور میں ریزرویشن کے خلاف طلبہ کے احتجاج کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ وائرل تصویر کسی حقیقی احتجاج کی تصویر نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
