اقوام متحدہ نے غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیل کے حملوں میں 67 ہلاکتوں اور 320 افراد کے زخمی ہونے کی مذمت کی ہے جبکہ ان حملوں میں امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے غزہ کے طبی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مارچ کے وسط میں جنگ بندی کا خاتمہ ہونے کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل کی فوج نے گزشتہ روز لوگوں کو غزہ شہر میں مخصوص عمارتیں اور علاقے چھوڑنے کے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقامات پر کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ دو روز میں اقوام متحدہ کے کم از کم ایک شراکتی ادارے پر بھی حملہ کیا گیا ہے جن میں ایک امدادی کارکن اور ایک بچے سمیت متعدد افراد کی ہلاکت ہوئی۔
انخلا کے نئے احکامات
ترجمان نے امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے 80 فیصد سے زیادہ علاقے سے یا تو انخلا کے احکامات دیے جا چکے ہیں یا انہیں اسرائیل کی جانب سے عسکری زون قرار دیا گیا ہے جس کے باعث یہ عام شہریوں کے لیے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے کچھ حصوں سے انخلا کے نئے احکامات دیے جانے کے باعث لوگ ایک مرتبہ پھر جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جہاں پہلے ہی بہت ہجوم ہے۔
غزہ کے شمال اور جنوب دونوں حصوں میں خوراک، پانی اور پناہ گاہوں کی شدید قلت ہے۔ ہزاروں خاندان متواتر بے گھر ہو رہے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں غزہ میں آنے والا پناہ کا سامان بڑے پیمانے پر امدادی ضروریات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔
اس صورت حال سے انسانی امداد تک فوری اور محفوظ رسائی اور انسانی بحران کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے کی اشد ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔
بھوک سے اموات
‘اوچا’ نے کہا ہے کہ غزہ شہر میں قحط کی تصدیق کے بعد مقامی طبی حکام نے اطلاع دی ہے کہ غزہ بھر میں اب تک 100 سے زیادہ افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے۔
بیشتر علاقوں میں اسرائیلی حکام نے امدادی کارکنوں کے لیے نقل و حرکت سے پہلے اجازت لینے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔
‘اوچا’ نے بتایا ہے کہ اتوار کو 24 میں سے 11 امدادی کارروائیوں کی اجازت دی گئی جن میں کیرم شالوم کراسنگ سے ایندھن جمع کرنا اور اسے شمالی غزہ منتقل کرنا بھی شامل تھا۔ تین کارروائیوں کو اجازت نہیں دی گئی جبکہ چار کو منتظمین نے منسوخ کر دیا۔
دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اسے 570 سے زیادہ وہیل چیئر موصول ہو چکی ہیں جو غزہ میں مختلف ہسپتالوں اور امدادی شراکت داروں میں تقسیم کی جائیں گی۔ ان میں بچوں کے لیے مخصوص 260 وہیل چیئر بھی شامل ہیں۔

