Digital Forensic, Research and Analytics Center

اتوار, فروری 5, 2023
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

کیا پرتھوی راج چوہان کی بیٹیوں نے خواجہ غریب نواز ؓ کے کر دیے تھے ٹکڑے ٹکڑے؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے سب سے بڑے اور مشہور صوفی حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی المعروف خواجہ غریب نواز ؓ کے بارے میں بعض سوشل میڈیا یوزرس دعویٰ کر رہے ہیں کہ پرتھوی راج چوہان کی بیٹیوں نے خواجہ غریب نواز ؓ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے۔

سریش شرما نامی یوزر نے ٹویٹ کیا،’ پرتھوی راج چوہان کی ویر پُتریوں (بہادر بیٹیوں) نے خواجہ چشتی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے، جس کے دروازے پر آج ہندو چادر چڑھانے جاتے ہیں‘۔

Tweet Link

اسی طرح دیگر یوزرس نے بھی دعویٰ کیا ہے۔

Tweet Link
Tweet Link

فیکٹ چیک

متذکرہ بالا دعوے کی جانچ-پڑتال کے لیے DFRAC کی ٹیم نے سب سے پہلے یہ جاننے کے لیے کہ پرتھوی راج چوہان کے کتنے بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔ کچھ مخصوص کی-ورڈ کی مدد سے انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ ہمیں starsunfolded.com کا شائع کردہ ایک سوانحی مضمون ملا، جس کے مطابق پرتھوی راج چوہان کے ایک بیٹے تھے، جن کا نام گووند چوہان ہے۔ 

پھر DFRAC ٹیم نے خواجہ غریب نواز کے وصال کے بارے میں جاننے کے لیے گوگل سرچ کیا۔ ہمیں وکی پیڈیا پیج ملا، جس میں دی گئی معلومات کے مطابق 15 مارچ 1236ء یعنی 4 اور 6 رجب 633 ہجری کو خواجہ صاحب اپنے کمرے میں تشریف لے گئے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگے، رات بھر ان کی آواز سنائی دیتی رہی، لیکن صبح آواز آنا بند ہو گئی۔ جب کمرہ کھولا گیا تو وہ مالک حقیقی سے جا ملے تھے، ان کی پیشانی پر  صرف یہ کلمات چمک رہے تھے، ’مات حبیب اللہ فی حب اللہ‘ یعنی اللہ کا محبوب بندہ اللہ رب العزت کی محبت میں موت ذائقہ چکھ گیا۔ 

یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خواجہ غریب نوازؓ کا وصال طبعی تھا۔ پرتھوی راج چوہان کی بیٹیوں سے ان کی ملاقات ہی نہیں اور یہ ممکن بھی نہیں تھی کیونکہ پرتھوی راج چوہان کی اولاد میں بیٹی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

چشتی

چشتیہ طریقہ ایرانی شہر ’چشت‘ میں ابو اسحاق شامی نے شروع کیا تھا، اس لیے اس طریقے کا نام ’چشتیہ‘ پڑ گیا۔ لیکن یہ برصغیر ہند تک نہیں پہنچا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے یہ صوفی طریقہ یہاں قائم کیا اور اس کی تبلیغ کی۔ یہ طریقہ روحانی تھا، ہندوستان نے ایک روحانی ملک ہونے کے ناطے اس طریقے کو سمجھا، خوش آمدید کہا اور اپنایا۔ مذہبی طور پر یہ طریقہ بہت پرامن اور مذہبی جوش و خروش سے بھرا ہوا ہے، اس لیے ان کے شاگرد ہندوستانی معاشرے میں زیادہ ہوئے۔ ان کا چرچا دور دور تک پھیل گیا اور لوگ دور دور سے ان کے دربار میں حاضر ہوتے اور علم دین حاصل کرتے۔ حضرت خواجہ غریب نوازؓ کی درگاہ آج بھی انسانی اتحاد کا مرکز ہے۔ یہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ 

نتیجہ:

DFRAC کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا یوزرس کا یہ دعویٰ کہ پرتھوی راج چوہان کی بیٹیوں نے معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ غریب نوازؓ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے، فیک ہے، جو منفی جذبے کے تحت کیا گیا ہے کیونکہ پرتھوی راج چوہان کی اولاد میں بیٹی کا ذکر نہیں ہے۔