Digital Forensic, Research and Analytics Center

اتوار, نومبر 27, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

فیکٹ چیک: ناموسِ رسالت مآبﷺ سے متعلق ترکیہ اردو نے چلائی فیک نیوز 

ترکی سے چلنے والے اردو زبان کے نیوز پورٹل ترکیہ اردو نے ایک تصویر ٹویٹ کرکے دعویٰ کیا کہ بھارت میں توہینِ رسالت مآب ﷺ کے خلاف مظاہرہ کرنے کے سبب پولیس مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ تصویر میں خاتون پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کو کھینچ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

نیوز پورٹل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا-’بھارت میں مسلمان خواتین کا احتجاج ایک خاتون پولیس اہلکار احتجاج کرنے والی خاتون کو کھینچ کر لے جا رہی ہے، بھارت میں ناموس رسالت ﷺ کے خلاف احتجاج جاری ہے #Islamophobia_in_india #IndianMuslimsUnderAttack‘۔

Source: Twitter

اس ٹویٹ کو 1900 سے زیادہ بار ری-ٹویٹ کیا گیا اور 4700 سے زیادہ بار لائک کیا گیا۔

فیکٹ چیک:

وائرل تصویر کا فیکٹ چیک کرنے کے لیے DFRAC نے پہلے اسے انٹرنیٹ پر ریورس امیج سرچ کیا۔ تو ہمیں یہ تصویر فریٹرنِٹی موومنٹ کیرالا کے فیس بک پیج پر ملی۔ اس تصویر کو 13 جون کو اس کیپشن کے ساتھ پوسٹ کیا گیا ہے، ’پولیس نے فریٹرنِٹی مومنٹ کی قومی سکریٹری عائشہ رینّا این کو گرفتار کیا اور کیرالا کے ملاپورم میں نیشنل ہائی وے کو بلاک کرنے کے بعد کئی دیگر ارکان پر لاٹھی چارج کیا‘۔

اخباری تراشہ

علاوہ ازیں ہمیں ایک دیگر پوسٹ میں ملیالم زبان کے اخبارات کی کچھ خبریں بھی ملی ہیں۔ مظاہرے کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مظاہرہ یوپی کے پریاگ راج میں ایکٹیوِسٹ (سماجی کارکُن) آفرین فاطمہ کے گھر کو مسمار کیے جانے کے خلاف کیا گیا تھا۔ اُن پر، اِن پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

نتیجہ:

لہٰذا یہ واضح ہے کہ عائشہ رینا این کی گرفتاری کے بارے میں ترکیہ اردو کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔