Digital Forensic, Research and Analytics Center

پیر, نومبر 28, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

Popular Posts

Latest

ہندو تنظیموں نے اسکولوں میں دعا کے بجائے ’ہندو بھجن‘ گانے کا مطالبہ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک

سوشل میڈیا اکاؤنٹ، مرصد مسلمي الهند (@India__Muslim) مسلسل ہندوستان...

دہلی میں دو مسلمانوں نے ایک ہندو لڑکے کو کیا قتل؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو...

کیا پاکستان نےکیا بلوچستان کے خلاف اعلان جنگ؟ پڑھیں، فیکٹ چیک 

پاکستان اور بلوچستان کے مابین جنگ کے حوالے سے...

فیکٹ چیک: کیا  حکومتِ ہند 3000 مساجد کو منہدم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہو رہا ہے...

فیکٹ چیک: راجستھان کے وزیر کا گمراہ کن دعویٰ، ’چین میں 80 فیصد، امریکہ میں 50 فیصد خواتین کام کرتی ہیں‘

راجستھان ڈیجیفیسٹ کے اختتامی پروگرام میں تقریر کے دوران سی ایم اشوک گہلوت کی موجودگی میں کابینی وزیر گووند رام میگھوال نے دعویٰ کیا کہ–’چین میں 80 فیصد سے زائد خواتین کام کرتی ہیں، امریکہ میں 50 فیصد خواتین کام کرتی ہیں، اس لیے وہ ممالک سائنس کی دنیا میں جی رہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ آج بھی کروا چوتھ پر عورتیں چھلنی دیکھ کر اپنے شوہر کی لمبی عمر کی بات کرتی ہیں، لیکن شوہر کبھی بیوی کی عمر کے لیے چھلنی نہیں دیکھتا، لوگ انھیں توہم پرستی میں ڈال رہے ہیں، لوگ مذہب اور ذات پات کے نام پر لڑ ا رہے ہیں…‘۔

وزیر میگھوال کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا یوزرس اس پر ردعمل کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ نتیش پانڈے نےلکھا کہ #راجستھان کے وزیر نے خواتین کا اڑایا مذاق۔

وہیں ابو طہٰ نے لکھا،’بالکل۔‘ (درست بات ہے)

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وزیر نے جو اعداد شمار بتائے ہیں، کیا وہ درست ہیں؟ 

فیکٹ چیک

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وزیر کے دعوے کی تحقیق و تفحیص کے لیے کچھ خاص ’کی ورڈ‘ کی مدد سے گوگل پر ایک سمپل سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے شائع، بہت سی رپورٹس ملیں۔ 

Catalyst کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق چین ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ تاہم، 90 کی دہائی سے خواتین کی لیبر فورس کے اعداد و شمار میں کمی بھی آرہی ہے۔ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق لیبر فورس میں خواتین کی کل شراکت داری 43.7 فیصد ہے۔

Catalyst

امریکہ کی سرکاری ویب سائٹ بیورو آف لیبر اِسٹیٹسٹکس کی شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی لیبر فورس میں شراکت داری 2019 میں 57.4 فیصد ہے جو کہ 2018 میں 57.1 فیصد تھی۔ مردوں کی لیبر فورس میں شراکت داری، جو ہمیشہ خواتین کی نسبت بہت زیادہ رہی ہے، 2019 میں 69.2 فیصد تھی، جو پچھلے سال (69.1 فیصد) سے کم ہے۔

وہیں وطن عزیز ہندوستان میں ویمن لیبر فورس کے حوالے سے ہمیں نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں خواتین لیبر فورس کی شراکت داری بڑھ کر 25.1 فیصد ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ 3 فیصد بڑھ کر 27.7 فیصد ہو گئی ہے جبکہ شہری خواتین کی شراکت داری کی شرح گذشتہ برس کے مقابلے 0.1 کے اضافے کے ساتھ 18.6فیصد ہو گئی ہے۔

نتیجہ:

DFRAC  ڈیسک کے اس فیکٹ چیک سے واضح ہوتا ہے کہ راجستھان کے کابینی وزیر گووند رام میگھوال کا یہ دعویٰ کہ چین میں 80 فیصد سے زائد اور امریکہ میں 50 فیصد خواتین کام کرتی ہیں، گمراہ کن ہے کیونکہ چین میں لیبر فورس میں خواتین کی مجموعی شراکت داری 43.7 فیصد ہے اور امریکہ میں 57.4 فیصد ہے۔ وہیں ہندوستان میں بھی ویمن لیبر فورس میں معمولی ہی سہی مگر اضافہ ہوا ہے۔

دعویٰ: چین میں 80 فیصد سے زائد تو امریکہ میں 50 فیصد خواتین کام کرتی ہیں

دعویٰ کنندہ : راجستھان کے کابینہ وزیر، گووند رام میگھوال

فیکٹ چیک: گمراہ کن