سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بھیڑ کو کچھ لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو علی گڑھ کا بتا کر ذات پات کے تنازع کا رنگ دیتے ہوئے شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ یادو سماج کے زیرِ اہتمام بھنڈارے میں آئے دلتوں کی پٹائی کی گئی۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے “مسٹر تیاگی” نامی صارف نے لکھا:
“یادو بھنڈارا کر رہے تھے، کچھ دلت کھانا کھانے آئے۔ دلتوں کی ضد تھی کہ ہم یادوؤں کا بھنڈارا کھا کر ٹھاکروں کے کنویں سے پانی پئیں گے۔ یادوؤں نے کہا، ‘بھنڈارا ہے، محبت سے کھانا ہے تو کھاؤ، ورنہ چلے جاؤ۔’ دلتوں نے کہا، ‘ہم حق سے کھائیں گے، ہم ٹھاکر کے کنویں کو بھی اپنا مانتے ہیں اور یادوؤں کے بھنڈارے کو بھی، ہم دونوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔’ پھر کیا تھا، یادوؤں نے دوڑا دوڑا کر مارا… علی گڑھ”

اسی طرح اس ویڈیو کو کئی دیگر صارفین نے بھی اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا جا رہا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو علی گڑھ کے علاقے اِگلاس کے گاؤں موہرینی میں ایک شادی تقریب کے دوران ہونے والی مارپیٹ کا ہے۔ ہمیں یہ ویڈیو 3 اپریل کو کئی سوشل میڈیا ہینڈلز پر پوسٹ ملا۔ علی گڑھ کے مقامی صحافی رشی چودھری نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا: “شادی میں خونی تصادم، علی گڑھ اِگلاس کے گاؤں موہرینی میں شادی میدانِ جنگ بن گئی، دھاردار ہتھیاروں سے حملہ، کئی زخمی،

اس کے علاوہ اس ویڈیو کو کئی دیگر صارفین نے بھی علی گڑھ کے اِگلاس کے گاؤں موہرینی میں شادی تقریب کے دوران مارپیٹ کا واقعہ بتا کر شیئر کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں موہرینی کے رہائشی رحمان نے شادی کا کارڈ دے کر سریندر کمار کو بلایا تھا۔ اس کے بعد منصوبہ بندی کے تحت سریندر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ اس رپورٹ میں متاثرہ سریندر کمار کے بیٹے کا انٹرویو بھی دکھایا گیا ہے۔

اس معاملے پر مزید معلومات کے لیے ہماری ٹیم نے اس واقعے کی کوریج کرنے والے مقامی صحافی رشی چودھری سے رابطہ کیا۔ رشی نے بتایا کہ یہ ویڈیو شادی تقریب میں سریندر کمار نامی شخص کے ساتھ مارپیٹ کا ہے۔ انہوں نے اس ویڈیو کے ساتھ یادوؤں کے بھنڈارے میں دلتوں کی پٹائی کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
اسی طرح علی گڑھ پولیس نے بھی ایک پوسٹ میں وائرل دعووں کی تردید کی ہے۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو علی گڑھ کے اِگلاس علاقے کے گاؤں موہرینی میں شادی تقریب کے دوران ہونے والی مارپیٹ کا ہے۔ اسے یادوؤں کے بھنڈارے میں دلتوں کی پٹائی کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

