اروناچل پردیش میں چینی فوجیوں کی مبینہ دراندازی سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چینی فوجیوں نے بھارتی علاقے میں دراندازی کی کوشش کی، جس کے بعد مقامی لوگوں نے ان کا سامنا کیا اور انہیں کھدیڑ دیا۔

Source: Facebook
سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارف راہل وِد ریئلٹی نے لکھا کہ ’’سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اروناچل پردیش میں لوگوں نے چینی اہلکاروں کا سامنا کیا، جو مبینہ طور پر بھارتی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس واقعے نے سرحدی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے خدشات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم، اس مبینہ آمنے سامنے کی درست تفصیلات کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بھارت کی سرحدی سلامتی قومی اہمیت کا موضوع ہے۔ #اروناچل_پردیش #بھارت_چین_سرحد #بھارتی_فوج #سرحدی_سلامتی‘‘

Source: Facebook
وہیں ایک دوسرے صارف بھارت 9 نے بھی وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اروناچل پردیش میں چینی فوج کی دراندازی کی کوشش؟ مقامی لوگوں کے کھدیڑنے کا دعویٰ وائرل!‘‘

Source: Instagram

Source: Facebook
وائرل ویڈیو کے ساتھ کیے گئے دعوے کی جانچ کے لیے ڈی ایف ریک نے ویڈیو کے کلیدی فریمز کی ریورس سرچ کی۔ اس دوران ہمیں انسٹاگرام اور فیس بک پر اسی سے ملتی جلتی ایک ویڈیو ملی۔ یہ ویڈیو تین دن پہلے صارف سنیل کنور نے شیئر کی تھی۔ انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں ’’وائل‘‘ لکھا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ وائل (وایال) نیپال کے ضلع ڈوٹی میں واقع ایک گاؤں ہے۔

Source: Facebook

Source: Instagram
تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے صارف سنیل کنور کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس کی جانچ کی۔ اس دوران ہمیں معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹ نیپال کے ضلع ڈوٹی سے تعلق رکھتا ہے۔




اس کے علاوہ، ہم نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے مزید تحقیق کی۔ اس دوران ہمیں اسی طرح کی کئی دوسری ویڈیوز بھی ملیں، جنہیں یہاں، یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز کے کیپشن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ’’وائل دشیں پورنیما میلہ‘‘ کی ہیں۔

واضح رہے کہ دشیں نیپال کا سب سے طویل تہوار ہے، جو دو ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ لوگ اس تہوار کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گھر لوٹ کر، پتنگیں اڑا کر، تاش کھیل کر، نئے کپڑے خرید کر اور مختلف رنگا رنگ جلوس نکال کر مناتے ہیں۔ یہ تہوار عام طور پر ستمبر اور اکتوبر میں منایا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ہم نے نیپال میں قائم ’مدھیشی ٹائمز‘ کے صحافی اشوک ادھیکاری سے بھی بات کی۔ انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’وائرل ویڈیو نیپال کے ضلع ڈوٹی کے وائل گاؤں ہی کی ہے۔‘‘ انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ یہ ویڈیو اروناچل پردیش کی ہے۔
ڈی ایف ریک کی تحقیقات میں اروناچل پردیش میں چینی فوجیوں کی دراندازی اور مقامی لوگوں کی جانب سے انہیں کھدیڑنے کا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔ وائرل ویڈیو نیپال کے ضلع ڈوٹی کے وائل گاؤں میں منعقد ہونے والے دشیں پورنیما میلے سے متعلق ہے۔ لہٰذا اس ویڈیو کو بھارت اور چین کی سرحد پر دراندازی کے واقعے سے جوڑ کر شیئر کرنا غلط ہے۔
