Varanasi fake claim

فیکٹ چیک: کیا وارانسی میں ایک ہندو لڑکی نے ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دینے پر 6 مسلم نوجوانوں کو قتل کر دیا؟ نہیں، یہ دعویٰ فیک ہے

Fact Check Fake Featured

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ بریکنگ نیوز کا ایک پوسٹ کارڈ شیئر کر کے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اتر پردیش کے وارانسی ضلع کے بابت پور علاقے میں ایک ہندو لڑکی نے ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دینے والے 6 مسلم نوجوانوں کو قتل کر کے ان کے سر دیوی کالی کے مندر میں چڑھا دیے۔ وائرل پوسٹ کارڈ پر لکھا ہے:
"بریکنگ نیوز، لگاؤ اسٹوری: ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دینے پر ہندو لڑکی نے 6 مسلم نوجوانوں کا گلا کاٹ کر وارانسی کے بابت پور واقع کالی ماتا مندر میں 6 کٹے ہوئے سر چڑھا دیے..! اب شیرنی میدان میں اتر آئی ہے۔”

انوج شکلا نامی ایک صارف نے اس پوسٹ کارڈ کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ویسے میں بہت سخت لڑکا ہوں، لیکن یہاں میں پگھل گیا یار۔‘‘

Link

انسٹاگرام پر اس پوسٹ کارڈ کو شیئر کرتے ہوئے آفیشل اے کے راج 35 نامی صارف نے لکھا، ’’ایک دلت لڑکی 6 مسلمانوں کا گلا کاٹ کر فرار ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ان مسلمانوں نے اسے ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر وارانسی کے بابت پور کے ہیمنت پور گاؤں کا بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ لڑکی کے اہل خانہ نے کئی بار پولیس سے شکایت کی تھی، لیکن پولیس نے نہ تو خاتون کو کوئی تحفظ دیا اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی۔‘‘

Link

اس کے علاوہ بھی کئی دیگر صارفین اس پوسٹ کارڈ کو وارانسی کے بابت پور میں پیش آنے والا واقعہ بتا کر شیئر کر رہے ہیں، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں وائرل دعوے کو فیک پایا۔ جانچ کے دوران ہمیں اس واقعے کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد میڈیا رپورٹ نہیں ملی۔ اسی طرح اس واقعے کے حوالے سے پولیس کا بھی کوئی سرکاری بیان موجود نہیں ہے۔ البتہ پھول پور تھانہ (جس کے دائرۂ اختیار میں بابت پور علاقہ آتا ہے) کے ایس ایچ او راجیو کمار سنگھ نے ڈی ایف آر اے سی سے گفتگو کرتے ہوئے وائرل خبر کی تردید کی اور اسے فیک نیوز قرار دیا۔

جانچ کے لیے ہم نے سب سے پہلے گوگل پر "وارانسی میں ہندو لڑکی نے 6 مسلمانوں کو قتل کیا” کے کلیدی الفاظ تلاش کیے، لیکن ہمیں کسی بھی معتبر میڈیا ادارے کی جانب سے شائع کی گئی کوئی اطلاع نہیں ملی، کیونکہ اگر وارانسی میں ریپ اور مذہب تبدیل کرنے جیسے سنگین الزامات کے معاملے میں 6 افراد کے قتل جیسا بڑا واقعہ پیش آیا ہوتا تو یہ یقیناً میڈیا کی نمایاں سرخی بنتا۔

جانچ کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے پہلے بھی یہی فیک نیوز سال 2023 میں پھیلائی گئی تھی۔ اس وقت وارانسی پولیس کے ڈی سی پی گومتی زون وی این ایس کے سرکاری ایکس ہینڈل سے ایک بیان جاری کر کے اس فیک نیوز کی تردید کی گئی تھی۔

وارانسی پولیس نے 18 جون 2023 کو اپنے بیان میں کہا تھا:

’’براہِ کرم توجہ دیں۔ بعض ٹوئٹر ہینڈلز کی جانب سے ایک فیک نیوز پوسٹ کر کے وائرل کی جا رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ "ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دینے پر ایک دلت ہندو لڑکی نے 6 مسلم نوجوانوں کا گلا کاٹ دیا اور فرار ہو گئی، جبکہ بابت پور کے کالی مندر سے 6 سر برآمد ہوئے۔” یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ہے۔ وارانسی کے گومتی زون کے تحت تھانہ پھول پور کی چوکی بابت پور کے علاقے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ وارانسی پولیس اس جھوٹی اور گمراہ کن خبر کی تردید کرتی ہے۔ براہِ کرم اس قسم کی جھوٹی اور گمراہ کن پوسٹس شیئر نہ کریں۔ وارانسی پولیس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ایسی پوسٹس شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘

مزید جانچ کے لیے ہماری ٹیم نے حالیہ دنوں میں اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق کے لیے پھول پور پولیس تھانہ کے انچارج راجیو کمار سنگھ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وائرل خبر کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ پھول پور تھانہ کے تحت آنے والے بابت پور علاقے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس علاقے میں ہیمنت پور نام کا کوئی گاؤں بھی موجود نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے تھانہ علاقے میں کالی جی کا کوئی قائم شدہ مندر بھی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ وائرل پوسٹ میں بابن پور کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ کچھ بابت پور لکھ رہے ہیں، لیکن اگر بابت پور ہی مان لیا جائے تب بھی اس علاقے میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا گیا دعویٰ فیک ہے۔ وارانسی میں ریپ اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنے پر 6 مسلم نوجوانوں کو ایک ہندو لڑکی کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین کا دعویٰ فیک اور بے بنیاد ہے۔