سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکی کو مولوی کی طرف سے سبق سکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ مولوی لڑکی کا نکاح (شادی کی تقریب) کر رہا ہے۔ کئی صارفین نے اس ویڈیو کو شیئر کیا اور اشتعال انگیز تبصرے کیے ہیں۔
اس ویڈیو کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے پشپ راج شرما نامی ایک صارف نے لکھا:
“یہ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں… ایک 6 سال کی معصوم بچی پھولوں کی مالا اور شادی کے کپڑوں میں، ایک بڑے آدمی کے سامنے بیٹھی ہوئی نکاح کی رسم میں شامل… یہ کوئی ثقافت نہیں، یہ تو جاہلیت اور ظلم ہے۔ جس بچی کو ابھی کھیلنے کی عمر ہے اسے زبردستی شادی کے نام پر برباد کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں ایسے گھناونے رسم و رواج پر پابندی لگنی چاہیے…”

اس کے علاوہ اس اسکرین شاٹ کو نکاح کے دعوے کے ساتھ کئی دیگر صارفین نے بھی شیئر کیا ہے، جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ بچی کے نکاح کا ویڈیو نہیں بلکہ بسم اللہ رسم کا ویڈیو ہے۔ بسم اللہ رسم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب بچے قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں بچی کے ساتھ ایک شخص کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اس کے والد ہیں۔

اسی طرح ہمیں بچی کی بسم اللہ رسم کے دوران کے کئی ویڈیوز اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی ملے، جن میں بچی کے ساتھ اس کی نانی بھی نظر آتی ہیں۔

اسی طرح ہماری ٹیم نے اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے بچی کی والدہ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ویڈیو کے بارے میں بتایا کہ یہ بسم اللہ رسم کے دوران کا ویڈیو ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی غلط معلومات پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر بچی کی بسم اللہ رسم کے ویڈیو کو نکاح پڑھائے جانے کا بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔

