Assam flood video

فیکٹ چیک: آسام میں سیلاب میں ڈوبی اور تباہ شدہ مسجد سے اذان دیتے شخص کی وائرل ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے

Fact Check Featured Misleading

آسام میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آفت سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، 80 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے اور بے شمار لوگ بے گھر ہو گئے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک تباہ شدہ اور آدھی پانی میں ڈوبی مسجد کی چھت پر ایک شخص اذان دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو کو آسام کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے اور دیکھنے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسے ڈرون کی مدد سے ریکارڈ کیا گیا ہو۔

فیس بک پر بھارت منچ نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: "آسام میں سیلاب سے متاثرہ ایک مسجد سے اذان کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں… بس نام رہے گا اللہ کا۔” اس پوسٹ کو دو لاکھ سے زائد افراد نے پسند کیا جبکہ بارہ ہزار سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا گیا۔

Link

اس ویڈیو کو ایکس پلیٹ فارم پر بھی کئی صارفین نے شیئر کیا۔ اعظم خان پیروڈی نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، "الحمد للہ..! ہم مسلمان ہیں۔۔ سیلاب کے درمیان ٹوٹی ہوئی مسجد میں اذان کی صدا گونج رہی ہے۔” یہ پوسٹ بھی کافی وائرل ہوئی، جسے 9,700 سے زائد افراد نے لائک کیا۔

Link

ہم نے پایا کہ اس ویڈیو کو انسٹاگرام پر بھی کئی صارفین نے شیئر کیا ہے، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ یہ آسام کے سیلاب کی حقیقی ویڈیو نہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو ہے۔ مزید یہ کہ وائرل ویڈیو کا تجزیہ کرنے کے بعد اے آئی ماہر کمار انیکیت نے بھی اسے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو قرار دیا۔

ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ کے لیے سب سے پہلے ویڈیو کے کی فریمز نکالے، پھر گوگل لینز کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں یہی ویڈیو طالب شیخ نامی یوٹیوب چینل پر 20 جولائی 2026 کو اپ لوڈ شدہ ملی، جس کے ساتھ صرف "اللہ” لکھا گیا تھا، جبکہ اس کے علاوہ کوئی مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے نچلے حصے میں گوگل جیمنی کا لوگو موجود ہے۔ عام طور پر یہ لوگو انہی ویڈیوز میں نظر آتا ہے جو گوگل جیمنی کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ ویڈیو کی ڈسکرپشن میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ یہ ویڈیو اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہے اور اس میں آواز یا مناظر کو تبدیل کیا گیا ہے یا مکمل طور پر اے آئی کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔

تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز ہائیو ماڈریشن اور ڈیپ فیک او میٹر کے ذریعے کی۔ ہائیو ماڈریشن کی جانچ میں معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کے 99.9 فیصد امکانات ہیں کہ یہ اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیپ فیک او میٹر کی جانچ میں بھی یہ نتیجہ سامنے آیا کہ وائرل ویڈیو 99.9 فیصد اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی ماہر کمار انیکیت سے رابطہ کیا۔ انیکیت نے ویڈیو کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ویڈیو میں اذان دینے والے شخص کی سمت ہر فریم میں بدلتی رہتی ہے، جبکہ اذان ہمیشہ (بھارت کے تناظر میں) مغرب کی جانب رخ کرکے دی جاتی ہے اور اس دوران مؤذن کی سمت تبدیل نہیں ہوتی بلکہ مستقل رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کو دریا کے عین درمیان دکھایا گیا ہے، جبکہ ویڈیو میں دریا کے کنارے واضح طور پر نظر آتے ہیں اور مسجد کے آس پاس دور دور تک کوئی عمارت یا گھر موجود نہیں۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر پانی کے بہاؤ، روشنی (لائٹنگ) اور انعکاس (ریفلیکشنز) کے درمیان طبعی ہم آہنگی نظر نہیں آتی، جبکہ مسلسل فریمز میں تفصیلات کا اچانک بدلنا (ٹیمپورل اِن کنسسٹنسی)، ٹیکسچر کا غیر مستحکم ہونا اور بعض حصوں میں اے آئی رینڈرنگ آرٹیفیکٹس بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سیلاب میں ڈوبی مسجد سے اذان دیتے شخص کی وائرل ویڈیو حقیقی نہیں ہے اور نہ ہی یہ آسام کی ویڈیو ہے۔ ہماری جانچ میں معلوم ہوا کہ یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے، لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔