Washim attack video

فیکٹ چیک: مہاراشٹر کے واشم میں نوجوان پر جان لیوا حملے کی ویڈیو کو مغربی بنگال کا بتا کر گمراہ کن دعویٰ کیا گیا

Fact Check Featured Misleading

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بھیڑ کچھ لوگوں پر لاٹھی ڈنڈوں سے جان لیوا حملہ کر رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں برقعہ پہنی ایک مسلم خاتون بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ مغربی بنگال میں سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک مسلم نوجوان پر حملہ کیا گیا۔

اس ویڈیو کو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے ڈی آر ایکس سمیم اختر نامی صارف نے بنگالی زبان میں کیپشن لکھا ہے، جس کا اردو ترجمہ ہے، ’’مغربی بنگال کا ایک نوجوان مسلم شخص ایک بار پھر سیاسی تشدد کا شکار ہوا ہے۔ یہ ریاست رہنے کے قابل نہیں رہی ہے۔‘

Link

وہیں انسٹاگرام پر بھی کئی صارفین نے اس ویڈیو کو مغربی بنگال کا بتا کر شیئر کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’مغربی بنگال کا ایک مسلم شخص ایک بار پھر بھارت میں سیاسی تشدد کا شکار ہوا ہے۔‘‘

Link

اس کے علاوہ اس ویڈیو کو مغربی بنگال میں مسلم نوجوان پر حملے کا بتا کر کئی دیگر صارفین نے بھی دعویٰ شیئر کیا ہے، جسے یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو مغربی بنگال کے واقعے کی نہیں ہے۔ یہ مہاراشٹر کے واشم ضلع میں سڑک پر اوورٹیک کرنے کے تنازعے کو لے کر ہونے والے حملے کی ویڈیو ہے۔ ہماری ٹیم نے ویڈیو کے کی فریمز کو گوگل لینس کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا۔ ہمیں اس ویڈیو کے حوالے سے زی نیوز کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ایک رپورٹ ملی، جس میں اس واقعے کو واشم ضلع کا بتایا گیا ہے۔

ہم نے جانچ کے دوران پایا کہ واشم کے مقامی صحافیوں اور میڈیا اداروں نے بھی اس ویڈیو کو واشم کے واقعے کے طور پر شیئر کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں زخمیوں کے نام پروین راؤت، راجیش راؤت، پرتیک راؤت، انکوش سونٹکے اور ایک خاتون بتائے گئے ہیں۔

مزید جانچ میں ہمیں پُڈھاری نیوز کی ایک رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ میں واقعے کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے، ’’واشم میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل کے ’کٹ لینے‘ کے معمولی جھگڑے میں 10 سے 12 افراد کے ایک گروپ نے ایک نوجوان اور اس کے رشتہ داروں پر لوہے کی راڈ سے حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا، جبکہ مجموعی طور پر چار افراد زخمی ہوئے۔ اس معاملے میں واشم سٹی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق، جب پرتیک راجیش راؤت اپنی والدہ اور چھوٹے بیٹے کے ساتھ باہیتی اسپتال کے سامنے سے گزر رہے تھے، تو ضلعی جنرل اسپتال کے قریب ایک موٹر سائیکل گیراج کے مالک نے ان کی گاڑی کو ’کٹ‘ مار دیا۔ جب پرتیک نے اس بارے میں سوال کیا تو ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔‘‘


اس واقعے میں مقام کے نام کے طور پر ’ڈسٹرکٹ جنرل ہاسپٹل‘ بتایا گیا ہے۔ ہم نے پایا کہ وائرل ویڈیو میں ’بابر‘ نامی ایک شاپ کا بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ جس کے بعد ہم نے گوگل میپ پر ڈسٹرکٹ جنرل ہاسپٹل کے بغل میں بابر نامی دکان کو دیکھا۔ ہمیں یہ دکان گوگل میپ پر دکھائی دی۔ گوگل میپ کو یہاں پر کلک کرکے دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنی جانچ میں ہم نے پایا تھا کہ فیکٹ نیوز نے بھی اس واقعے کو واشم کا بتاتے ہوئے کوریج کی ہے۔ جس کے بعد ہم نے فیکٹ نیوز کے صحافی عمران سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ واقعہ مغربی بنگال کا نہیں بلکہ واشم کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ سڑک پر ہونے والے ایک تنازعے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر مغربی بنگال میں مسلم نوجوان کے ساتھ سیاسی تشدد کا گمراہ کن دعویٰ کیا گیا ہے۔ وائرل ویڈیو کا واقعہ مہاراشٹر کے واشم ضلع کا ہے، جہاں سڑک پر اوورٹیک کرنے کو لے کر تنازعہ ہوا تھا۔