سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ راجستھان کے ایک گاؤں میں 4 مسلمان مدرسے کے لیے چندہ مانگنے آئے تھے۔ تب وہاں ایک شخص نے مسلمانوں سے پوچھا کہ ان کی نظر میں ہندو کیا ہیں؟ جس پر مسلمانوں نے جواب دیا کہ وہ کافر ہیں۔ اس کے بعد ان مسلمانوں کی پٹائی کی گئی۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے مس بھومی نامی صارف نے لکھا، ’’ویڈیو راجستھان کا ہے، ایسی اطلاع ہے۔ چار لوگ ایک گاؤں میں مدرسے کے لیے چندہ مانگنے آئے تھے، وہاں ایک ہندو نوجوان نے ان سے پوچھا کہ تمہاری نظر میں ہندو کیا ہیں؟ جواب آیا: کافر۔ پھر کیا تھا، لوگوں نے ان کی خوب پٹائی کر دی۔‘‘

دی جے پور ڈائیلاگز نامی صارف نے بھی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ راجستھان کے ایک گاؤں میں مدرسے کے نام پر چندہ مانگنے آئے لوگوں نے ہندوؤں کو کافر کہا، جس کے بعد ان کی پٹائی کی گئی۔

فیکٹ چیک:
ہم نے جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو راجستھان کا نہیں بلکہ اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں فروری میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکوٹی کو سائیڈ نہ دینے پر مسلمانوں کی پٹائی کی گئی تھی۔ پولیس نے اُس وقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ جانچ کے دوران ہمیں لائیو ہندوستان کے یوٹیوب چینل پر 21 فروری کو اپ لوڈ کی گئی ایک رپورٹ ملی، جس کا عنوان تھا: ’’بدایوں میں اسکوٹی کو سائیڈ نہ دینے پر اکشے نے تین مسلمانوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا‘‘۔
اس ویڈیو کی تفصیل میں بتایا گیا ہے: ’’اتر پردیش کے بدایوں ضلع سے سرِعام غنڈہ گردی کا ایک خوفناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ اسلام نگر تھانہ علاقے کے روداین قصبے میں ایک نوجوان نے ‘سائیڈ’ نہ دینے کے معمولی تنازع پر تین مسلم راہگیروں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل کے پرکھنڈ کنوینر اکشے کمار نے عبدالسلام اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ان کا آدھار کارڈ مانگا اور پھر نازیبا گالیاں دیتے ہوئے ان کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔ متاثرہ بزرگ رحم کی بھیک مانگتے رہے اور جب وہ جان بچا کر بھاگے تو ملزم نے تقریباً 200 میٹر تک ان کا پیچھا کیا۔‘‘
اسی دوران ہمیں اس واقعے کے بارے میں بی بی سی کی ایک رپورٹ ملی، جس میں بتایا گیا ہے: ’’ایف آئی آر میں درج ہے کہ عبدالسلام اور ان کے تین ساتھی روداین کے مرکزی راستے پر جا رہے تھے۔ پیچھے سے آنے والے ایک شخص نے ہارن بجایا، لیکن وہ سن نہیں سکے، جس پر ناراض ہو کر ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔‘‘

مزید جانچ میں ہم نے پایا کہ وائرل ویڈیو کو کئی دیگر صارفین اور میڈیا اداروں نے بھی فروری میں شیئر کیا تھا۔ ان پوسٹس کے جواب میں بدایوں پولیس نے معلومات دی تھیں کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا اور جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پولیس نے تمام جوابات میں لکھا تھا: ’’مذکورہ معاملے کے سلسلے میں تھانہ اسلام نگر پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔‘‘
نتیجہ:
ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو راجستھان کے کسی واقعے کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو فروری میں اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں پیش آنے والے واقعے کا ہے۔ لہٰذا صارفین کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

