علی لاریجانی کی موت کی ویڈیو

فیکٹ چیک: ایران کے سابق قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کی موت سے جوڑ کر وائرل کیا گیا ویڈیو گمراہ کن ہے

Fact Check Featured Misleading-ur

اسرائیل کے فضائی حملے میں ایران کے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی کی موت کے بعد اب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو اس وقت کا ہے جب اسرائیل نے علی لاریجانی کو مارنے کے لیے ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ایران کی زمین بھی ہل گئی۔

Link

سوشل سائٹ ایکس پر ویری فائیڈ صارف اوشیان جین نے اس وائرل ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ حملے کی شدت سے اردگرد کی ایرانی زمین ہل گئی۔ ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کو مارنے کے لیے یہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا، اب حوروں کے حصے میں اس کا ایک ایک ٹکڑا بھی نہیں آئے گا۔

link

وہیں ایک اور ویری فائیڈ صارف دیپک شرما نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے لکھا کہ جنگ کی تازہ خبر کے مطابق ایران اپنے آخری مرحلے میں ہے کیونکہ اسرائیل چن چن کر مار رہا ہے۔ یہ حملہ دیکھ کر آپ یقیناً سہم جائیں گے۔ ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی اس حملے میں مارے گئے اور حملے کی شدت سے اردگرد کی ایرانی زمین جیسے ہل گئی۔

link

اس کے علاوہ کئی دیگر ویری فائیڈ صارفین نے بھی اس ویڈیو کو ملتے جلتے دعوؤں کے ساتھ شیئر کیا۔

فیکٹ چیک

وائرل ویڈیو کے ساتھ کیے گئے دعوے کی جانچ کے لیے ڈی ایف آر اے سی نے ویڈیو کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور پھر ان حصوں کی تلاش کی۔ اس دوران یہ ویڈیو انسٹاگرام پر ملا جہاں اسے ۹ مارچ ۲۰۲۶ کو ایک اکاؤنٹ سے بغیر کسی وضاحت کے شیئر کیا گیا تھا۔

Source: Instagram

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی کی موت ۱۷ مارچ کو ایک اسرائیلی حملے میں ہوئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو ان کی موت سے پہلے کا ہے۔ مزید یہ کہ اس اکاؤنٹ کی جانچ میں سامنے آیا کہ اس پر ایران کی حمایت میں گیمنگ ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد بھی موجود ہے۔

Source: BBC

مزید تحقیق میں وائرل ویڈیو کو ایک مصنوعی ذہانت جانچنے والے آلے سے بھی پرکھا گیا جس میں یہ پایا گیا کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے اور اس کے مصنوعی ہونے کا امکان ۹۱ اعشاریہ ۷۱ فیصد بتایا گیا۔

مصنوعی ذہانت کے ماہر میاںک شرما نے ویڈیو کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کئی ایسے اشارے موجود ہیں جو اسے مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد ثابت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیو میں دھماکوں کا انداز غیر معمولی ہے، بغیر کسی میزائل کے نظر آئے یکے بعد دیگرے دھماکے ہوتے دکھائی دیتے ہیں جو حقیقی جنگی مناظر میں ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فریم بہ فریم دیکھنے پر مناظر میں ہلکی خرابیاں اور غیر فطری حرکت بھی نظر آتی ہے جو عام طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز میں پائی جاتی ہیں۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو گمراہ کن ہے، کیونکہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔