Nepal flood video

فیکٹ چیک: نیپال کے سیلاب کی بتاکر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو وائرل

Fact Check Featured Misleading

نیپال میں قدرتی آفت نے شدید تباہی مچائی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب میں اب تک کی رپورٹس کے مطابق 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 1500 سے زائد افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر اس آفت کی کئی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جن میں گھروں کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا پتھر بھی بہتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر نیپال کی آفت کی بتاکر ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بازار میں اچانک سیلابی پانی سے شدید تباہی ہوتی ہے اور کئی گھر سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، ’’نیپال فلڈ کی یہ ویڈیو دیکھ کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے، دیکھیے کس طرح ایک منٹ کے اندر اندر سب کچھ بکھر گیا۔‘‘

Link

اشوک شیرا نامی ایک دیگر صارف نے بھی اسی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’نیپال کے کل کے حالات‘‘۔

Link

فیکٹ چیک:

ڈی ایف آر اے سی کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جانچ میں پایا کہ یہ نیپال کی آفت کی حقیقی فوٹیج نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے۔ ہم نے وائرل ویڈیو کے حوالے سے اے آئی ماہر کمار انیکیت سے رابطہ کیا۔ انیکیت نے بھی تجزیے میں پایا کہ وائرل ویڈیو کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان کافی زیادہ ہے۔

ویڈیو کو غور سے دیکھنے پر ہم نے پایا کہ اس میں کئی ایسی بے ربطیاں موجود ہیں، جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ مواد میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بازار میں سیلاب آنے سے پہلے کی فوٹیج میں کسی بھی گھر کے سامنے کوئی درخت نہیں تھا، لیکن سیلاب کے بعد دو گھروں کے باہر درخت دکھائی دیتے ہیں، جو گرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہیں، ویڈیو میں ایک پک اَپ گاڑی دکھائی دیتی ہے، جو سیلابی پانی سے الٹ جاتی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے وہ بغیر کسی حرکت کے دوبارہ سیدھی ہو جاتی ہے۔

آگے کی جانچ میں ہماری ٹیم نے وائرل ویڈیو کو اے آئی ڈیٹیکٹر ٹولز ہائو موڈریشن اور ہیومن میٹر پر بھی چیک کیا۔ دونوں ٹولز کی جانچ میں وائرل ویڈیو کے اے آئی سے تیار کردہ مواد ہونے کا امکان زیادہ بتایا گیا ہے۔ ہائو موڈریشن کی جانچ میں سامنے آیا کہ وائرل ویڈیو کے اے آئی سے تیار کردہ ہونے کے امکانات 66.8 فیصد ہیں۔ وہیں، ہیومن میٹر کی جانچ میں سامنے آیا کہ اس ویڈیو کے 80 فیصد اے آئی سے تیار کردہ ہونے کا امکان ہے۔

وائرل ویڈیو کے بارے میں تفصیلی تجزیے کے لیے ہماری ٹیم نے اے آئی ماہر کمار انیکیت سے رابطہ کیا۔ انیکیت نے بتایا کہ وائرل ویڈیو میں کچھ ایسی بے ربطیاں نظر آتی ہیں، جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ مواد میں ہوتی ہیں۔ جیسے سیلاب کے دوران وہاں کھڑی کاریں اور پک اَپ گاڑیاں اچانک غائب ہو جاتی ہیں، جبکہ پانی کے بہاؤ کی سمت میں بائیکس بہتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہیں، بائیکس کے بہنے کا انداز بھی ایسا ہے جیسے وہ اسٹینڈ پر کھڑی ہی بہہ رہی ہوں، جو عام طور پر حقیقی صورتحال میں نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ پانی کا بہاؤ اور اچانک بڑی تعداد میں بڑے بڑے پتھروں کا سڑکوں پر آ جانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ حقیقی واقعہ نہیں ہے۔

نتیجہ:

ڈی ایف آر اے سی کے فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نیپال کی آفت کی حقیقی فوٹیج نہیں ہے۔ یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے، جسے گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔